نواز شریف اور فضل الرحمٰن کے حق میں بیانات کے بعد مسلم لیگ (ق) کی وضاحت

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2019

ای میل

چوہدری شجاعت کا بیان پہلا موقع نہیں تھا جب اتحادیوں کے درمیان اختلافات کا تاثر ملا—تصویر: ڈان نیوز فائل
چوہدری شجاعت کا بیان پہلا موقع نہیں تھا جب اتحادیوں کے درمیان اختلافات کا تاثر ملا—تصویر: ڈان نیوز فائل

لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے کزن چوہدری شجاعت کے بیانات سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ق) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی ہے اور رہے گی۔

اس حوالے سے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ ’کوئی سازشی نظریہ حکومتی اتحادیوں کے مابین دراڑ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا اور اس کے پسِ پردہ جو بھی ہیں وہ ناکام ہوں گے‘۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم حکومتی اتحادی ہیں اور رہیں گے انشا اللہ، کوئی بھی ہمارے درمیان غلط فہمی پیدا نہیں کرسکتا‘۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم 'اناڑی' مشیروں کے گھیرے میں ہیں، چوہدری شجاعت

واضح رہے کہ مذکورہ بیان مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کے کچھ گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلم لیگ (ق) اب حکومت کی اتحادی نہیں، یہ اسلام آباد دھرنے سے پہلے تھی اور جب پرویز الہٰی حکومتی نمائندے کی حیثیت سے آئے تھے تو انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے موقف کو تسلیم کیا تھا۔

اس سے قبل مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بیان دیا تھا کہ وزیراعظم کی ٹیم میں ’اناڑی مشیر‘ شامل ہیں جو انہیں جے یو آئی (ف) کے دھرنے کے دوران حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے پر زور دے کر ’درست مشورہ‘ نہیں دے رہے تھے۔

مسلم لیگ (ق) کے مطابق جارحانہ پالیسی کا نتیجہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپ کی صورت میں نکلتا اور تحریک انصاف حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتیں۔

مزید پڑھیں: میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ کیا تبدیلی پسند آئی، بلاول بھٹو

ان کا مزید کہنا تھا کہ ناتجربہ کار کھلاڑی اتحادیوں کو بھی وزیراعظم عمران خان سے فاصلے پر رکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کابینہ کے ’اناڑی‘ اراکین کے حوالے سے گجرات کے چوہدریوں کے تحفظات کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا بھر میں اتحادیوں کے درمیان اس طرح کے اختلافات ہونا عمومی بات ہے، ساتھ ہی انہوں نے مسلم لیگ (ق) کو حکومت کا بھروسہ مند اتحادی بھی قرار دیا۔

خیال رہے کہ چوہدری شجاعت کا بیان واحد موقع نہیں تھا جب اتحادیوں کے درمیان اختلافات کا تاثر ملا۔

اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں چوہدری پرویز الہٰی نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک سیکیورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ نے2010 میں جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان سمیت مسلم لیگ (ق) کے اہم رہنماؤں پر پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سے کوئی ڈیل اور مفاہمت نہیں ہوئی، مولانا فضل الرحمٰن

اس کے علاوہ ایک اور ٹی وی پروگرام میں اینکر کی جانب سے اس دعوے کہ ’چوہدری پرویز الہٰی نے شیروانی سلوالی ہے‘ کی نہ تو تردید کی گئی نہ وضاحت، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب یا وزیراعظم بننے کی کوشش کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے باعث مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں بیٹھنے پر مجبور ہوگئی تھی۔

بیان میں پرویز الٰہی نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے ’مروجہ سیاسی حقائق کے تحت ہمیشہ استدلال پر بات کی ہے‘۔

اس کے ساتھ جے یو آئی (ف) کے دھرنے کے پیشِ نظر سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنے کردار کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمارا کام (مظاہرین کے ساتھ) تصادم کو روکنا تھا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے دھرنے کے دوران مولانا فضل الرحمٰن سے اس لیے رابطہ کیا تا کہ ملک کو سیاسی انتشار سے بچایا جائے اور ثابت ہوگیا کہ ان کا اقدام درست تھا۔

مزید پڑھیں: چوہدری برادران کی 36 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمٰن سے تیسری ملاقات

اسی طرح ایک انٹرویو میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’جو کچھ ہم نے نواز شریف کے معاملے میں کہا وہ وزیراعظم عمران خان کے حق میں تھا‘۔

تاہم سیاست پر نظر رکھنے والوں نے شریف برادران کے لیے چوہدری برادران کے نرم دلی کو پی ٹی آئی حکومت کا جہاز ڈوبنے سے پہلے اس سے چھلانگ لگانے کے مترادف قرار دیا۔

علاوہ ازیں ایک اور حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے بھی حکومت کے مستقبل اور حکومت کا اتحادی بننے کے بعد سے حاصل ہونے والے فوائد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔

رہنما ایم کیو ایم خواجہ اظہار الحسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی معاشی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو شاید پی ٹی آئی حکومت اگلے بجٹ تک بھی نہ چل سکے۔


یہ خبر 18 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔