ملک کے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں ، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2019

ای میل

وزیراعظم سے بابر اعوان نے ملاقات کی —فائل فوٹو: عمران خان فیس بک پیج
وزیراعظم سے بابر اعوان نے ملاقات کی —فائل فوٹو: عمران خان فیس بک پیج

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احتساب ہمیشہ پہلی ترجیح رہے گی، قومی مفاہمی آرڈیننس (این آر او) مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم عمران خان سے سابق وزیر قانون اور تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد بابر اعوان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

مزید پڑھیں: ریاست کو کسی صورت کمزور نہیں پڑنے دیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ این آر او مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کیونکہ احتساب ہمیشہ پہلی ترجیح رہے گی۔

دوران گفتگو وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن، ریاست کے لیے دیمک ہے، ملک کے ادارے پاکستان کو مضبوط رکھنے کے لیے ایک پیج پر ہیں، اداروں کی تعمیر نو اور مضبوطی کے بغیر کام نہیں چلے گا۔

اعلامیے کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ادارے مضبوط ہورہے ہیں، عوامی ریلیف کے لیے اس ماہ بڑے ایکشن سامنے آئیں گے۔

ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا، قوم کی تعلیم و تربیت کا فرض ادا کرے، ساتھ ہی انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر شہ رگ ہے اور آزادی کشمیریوں کی منزل ہے۔

دوران ملاقات بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی انتھک کوششوں اور معاشی اصلاحات کے ذریعے مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں اور ان اصلاحات کے ثمرات بہت جلد غریب عوام تک پہنچیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمٰن کی موجودگی میں یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت؟ وزیراعظم

بابر اعوان نے کہا کہ معیشت کی درستی کے لیے بروقت اقدامات کو پذیرائی مل رہی ہے، وقت ثابت کرے گا کہ کٹھن فیصلے قوم کے مفاد میں تھے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت کے احساس پروگرام کے تحت غریب عوام تک ریلیف پہنچے گا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم عمران خان نے بابر اعوان سے ملاقات کی تھی، جس میں ملک کی تازہ سیاسی صورتحال سمیت آئینی و قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اس ملاقات میں عمران خان نے کہا تھا کہ ریاست پہلے اور سیاست بعد میں آتی ہے، ریاست کو کسی صورت کمزور نہیں پڑنے دیں گے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب پر یکساں اطلاق ہو گا۔