سندھ: اسلحہ لائسنس کے اجرا پر عائد پابندی اٹھا لی گئی

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

غیر ممنوعہ بور کے کمپیوٹرائزڈ لائسنس کے اجرا کا ماہانہ کوٹہ بھی بحال کردیا گیا — فائل فوٹو / رائٹرز
غیر ممنوعہ بور کے کمپیوٹرائزڈ لائسنس کے اجرا کا ماہانہ کوٹہ بھی بحال کردیا گیا — فائل فوٹو / رائٹرز

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسلحہ لائسنس کے اجرا پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔

سیکریٹری داخلہ سندھ ڈاکٹر محمد عثمان کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد صوبے میں اسلحہ لائسنس کے اجرا پر عائد پابندی فوری طور پر اٹھائی جارہی ہے۔

نوٹی فکیشن کے ذریعے سندھ آرمز رولز 2018 کے رول 4.1 کے تحت غیر ممنوعہ بور کے کمپیوٹرائزڈ لائسنس کے اجرا کا ماہانہ کوٹہ بھی بحال کردیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ مقررہ ماہانہ کوٹے کے مطابق صرف غیر ممنوعہ بور کے اسلحے کے کمپیوٹرائزڈ لائسنس جاری کیے جائیں گے اور لائسنس حاصل کرنے کے لیے سندھ آرمز ایکٹ 2013 اور سندھ آرمز رولز 2018 میں درج ضروریات پوری کرنا لازمی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلحہ کے لائسنس پر عائد پابندی ختم

واضح رہے کہ اسلحہ لائسنس کے اجرا پر 2013 میں وزیر اعلیٰ نے اپیکس کمیٹی کی سفارش پر پابندی لگائی تھی۔

اپیکس کمیٹی نے شہر میں ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے اسلحہ لائسنس کے اجرا پر پابندی کی سفارش کی تھی۔