لندن برج پر چاقو بردار کا حملہ، نواز شریف ٹیسٹ کیلئے ہسپتال نہیں پہنچ سکے

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2019

ای میل

نواز شریف 9 نومبر کو قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچے تھے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
نواز شریف 9 نومبر کو قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچے تھے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف لندن برج پر چاقو بردار شخص کے حملے کے بعد پولیس کی جانب سے علاقہ بندکرنے کے باعث میڈیکل ٹیسٹ کے لیے لندن برج ہسپتال نہیں پہنچ سکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف اسکین کے لیے ہسپتال جارہے تھے کہ میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے لندن برج پر حادثے سے متعلق الرٹ جاری کیا گیا۔

نواز شریف جس ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر چیک اپ کے لیے جارہے ہیں وہ جائے حادثہ سے آدھے میل کے فاصلے پر واقع ہے تاہم وہ راستے سے ہی پارک لین میں واقع ایون فیلڈ اپارٹمنٹ واپس آگئے۔

مزید پڑھیں: لندن: نوازشریف کے بون میرو ٹیسٹ پر اہلخانہ کو تشویش

میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے دن 2 بجے سے قبل لندن برج کے نزدیک لوگوں پر چاقو سے وار کیے تھے جس پر قریب کھڑے افراد نے اسے دبوچ لیا اور اس کا چاقو چھین لیا تھا۔

اس حوالے سے ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حملے میں 5 افراد زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے حملہ آور کو بھی فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

شہر کی ایمبولینس سروس نے واقعے کو علاقے میں ہونے والا 'بڑا سانحہ' قرار دیا تھا۔

واقعے کی وجہ سے جائے وقوع پر موجود پیدل چلنے والے افراد کے درمیان بھگدڑ مچ گئی تھی اور خواتین اور مردوں کو لندن برج کے علاقے میں بھاگتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

بعد ازاں لندن ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے لندن برج ٹیوب اسٹیشن اور بس اسٹاپ کو عوام کے لیے بند کردیا تھا۔

واضح رہے کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے نواز شریف کو ایک مرتبہ کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دینے کے بعد وہ شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ 19 نومبر کو قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچے تھے۔

لندن پہنچنے کے بعد اگلے روز ہسپتال لے جایا گیا جہاں علاج سے قبل ان کے متعدد ٹیسٹ کیے گئے اور علاج کے سلسلے میں ان کے مختلف ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لندن برج پر چاقو سے حملہ، پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

دو روز قبل نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت کی وجوہات جاننے کے لیے ڈاکٹروں کی تجویز پر ان کا پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی (پی ای ٹی) اسکین کیا گیا تھا۔

گزشتہ دنوں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے اپنے والد کے بون میرو ٹیسٹ سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ذاتی طور پر مجھے لگتا ہے کہ انہیں امریکا کے ایک معیاری ہسپتال لے جانا پڑے گا تاکہ ان کی دیگر بیماریوں کا علاج ہوسکے'۔

حسین نواز نے کہا تھا کہ ’میں نے نواز شریف سے متعدد مرتبہ اس حوالے سے بات کی لیکن ان کے لیے ابھی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ لندن میں اب بھی ان کے ٹیسٹ جاری ہیں‘۔