گوگل کی مقبول ترین ایپلی کیشن اب میسجنگ ایپ بننے کے قریب

اپ ڈیٹ 04 دسمبر 2019

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

گوگل کی جانب سے گزرے برسوں میں متعدد میسجنگ ایپلی کیشنز تیار کی گئیں اور ناکامی پر انہیں بند کردیا گیا۔

مگر اب یہ کمپنی ایک نئی میسجنگ سروس متعارف کرا رہی ہے مگر اس بار اپنی ایک مقبول ترین ایپلی کیشن کو اس کی شکل دے رہی ہے اور وہ ہے گوگل فوٹوز۔

گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اب اس ایپ کو استعمال کرنے والے صارفین ایک دوسرے سے چیٹ کے ساتھ میسج کی شکل میں تصاویر بھیج سکیں گے اور یہ سب گوگل فوٹوز ایپ یا ویب سائٹ میں رہتے ہوئے ہوگا۔

اس اضافے کے نتیجے میں صارفین کو اپنی تصاویر یا ویڈیوز دیگر افراد سے فوری طور اور آسانی سے شیئر کرنے کا موقع مل سکے گا اور شیئر البم بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ فیچر استعمال کرنا بھی آسان ہے، بس ایک تصویر کو سلیکٹ کرکے اس پر شیئر کے آپشن پر کلک کریں اور وہاں ایک نیا آپشن ہوگا سینڈ ان گوگل فوٹوز، اس پر کلک کرنے سے کانٹیکٹس کے آئیکون نظر آجائیں گے یا نان، فون نمبر یا ای میل سے بھی سرچ کرسکتے ہیں۔

اس فیچر کے ذریعے گروپ چیٹ بھی کی جاسکے گی جس کے لیے نیو گروپ کو سلیکٹ کرکے اس میں لوگوں کو ایڈ کرنا ہوگا۔

ایک بار کسی سے چیٹ کے بعد آپ کو دوبارہ اس صارف سے بات کرنے کے لیے شیئرنگ ٹیب میں جانا ہوگا جبکہ وہاں آپ وہ تصاویر اور ویڈیوز بھی دیکھ سکیں گے جو شیئر کی ہوں گی، کمنٹس، ٹیکسٹ چیٹ اور لائیکس بھی وہاں ہوں گے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ براہ راست شیئرنگ آپشن صارفین کی نظر میں ترجیحی میسجنگ ایپس کا متبادل بننا نہیں۔

گوگل نے اسی طرح کا تجربہ یوٹیوب ایپ میں بھی براہ راست ویڈیو شیئرنگ اور میسجنگ کی شکل میں کیا تھا مگر بعد ازاں اس فیچر کو ختم کردیا گیا۔

اس سے پہلے گوگل کی جانب سے فوٹوز ایپ کے لیے اسٹوریز جیسا فیچر میموریز کے نام سے بھی متعارف کرایا گیا تھا جو کہ انسٹاگرام سے بہت زیادہ ملتا جلتا تھا۔

اس فیچر میں صارفین پرانی تصاویر اور ویڈیوز اسٹوریز جیسے فارمیٹ میں دیکھ سکیں گے۔

ان تمام سوشل فیچرز کی بدولت گوگل کو توقع ہے کہ اس کی مقبول ترین ایپس میں سے ایک گوگل فوٹوز کے ذریعے وہ مزید آمدنی کے حصول کے ذرائع بناسکے گا۔

خیال رہے کہ گوگل فوٹوز استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔