سائنسدانوں کی پھیپھڑوں کی دوبارہ افزائش کے حوالے سے اہم پیشرفت

05 دسمبر 2019

ای میل

امریکی سائسندانوں نے اہم پیشرفت کی — شٹر اسٹاک فوٹو
امریکی سائسندانوں نے اہم پیشرفت کی — شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا بھر میں پھیپھڑوں کے سنگین امراض کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں اموات ہوتی ہیں اور اکثر اس کا واحد علاج عضو کی پیوندکاری ہوتا ہے۔

پھیپھڑوں کی پیوندکاری ایک بہت پیچیدہ عمل ہے جس کے متعدد دیگر مضر طبی اثرات بھی نظر آتے ہیں اور اکثر اوقات یہ کام بھی نہیں کرتا۔

اب تک عضو کی دوبارہ افزائش (ایک عضو کو جسم کے اپنے ٹشو کی مدد سے دوبارہ بنانے) کے شعبے کے سائنسدانوں نے پھیپھڑوں کی دوبارہ افزائش کے حوالے سے نمایاں پیشرفت کی ہے۔

امریکا کی یالے یونیورسٹی کے ماہرین نے اسکریننگ طریقہ کار کو استعمال کرکے انسانی پھیپھڑوں کا خلیاتی خاکہ (بلیو پرنٹ) تیار کیا ہے جس سے پھیپھڑوں کے افعال اور نظام تنفس کے امراض کو سمجھنا آسان ہوسکے گا۔

یالے اسکول آف میدیسین کے پروفیسر نفتالی کمینسکی کے مطابق یہ کامیابی ریزولوشن ٹیکنالوجی میں جدت سے ہی ممکن ہوسکی 'یہ بالکل ایسا ہے جیسے ہم نے خلیات کے تجزیے کو ریزولوشن کو رات کو آسمان دیکھنے کے لیے ننگی آنکھ یا بچوں کی دوربین کی بجائے ہبل ٹیلی اسکوپ کو استعمال کیا ہو'۔

پھیپھڑوں کے اس خاکے سے محققین کو وہ تمام تفصیلات معلوم ہوسکیں گی کہ اس عضو کے خلیات کیسے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں اور مختلف امراض کے علاج کے لیے نئے مالیکیولر اہداف کا تعین کرنے میں بھی مدد مل سکے گی۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق خاص طور پر گلاس جار میں پھیپھڑوں کے ٹشوز کو اگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس نئے خاکے سے محققین کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ان ٹشوز کو بنانے کا عمل درست سمت میں ہے یا نہیں۔

اسی طرح کسی غلطی کی صورت میں اسے درست کرنے کا موقع بھی مل سکے گا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ایک عضو کی دوبارہ افزائش کے لیے سادہ اصولوں پر غور کررہے ہیں، اس حکمت عملی کے اطلاق سے ہمیں نئے اعضا کو ڈیزائن کرنے میں مدد مل سکے گی۔