ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس نے مواخذے کیلئے باقاعدہ الزامات عائد کردیے

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2019

ای میل

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی، کمیٹی کے چیئرمین  اور دیگر اراکین نے الزامات کا اعلان کیا—فوٹو:اے ایف پی
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی، کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر اراکین نے الزامات کا اعلان کیا—فوٹو:اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں اپوزیشن کی جماعت ڈیموکریٹ کے رہنماؤں نے ایوان نمائندگان میں باقاعدہ طور پر الزامات کا اعلان کردیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ پر دو الزامات عائد کیے گئے ہیں جس میں سیاسی مخالف کی تفتیش کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرکے اختیارات کا غلط استعمال کیا جو ملک سے دھوکا دہی ہے۔

ڈیموکریٹس نے دوسرا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسکینڈل کے حوالے سے ہونے والی کانگریس کی تفتیش میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس کے اکثریتی ایوان میں ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹنگ ہوگی جو اگلے ہفتے ہوسکتی ہے جس کے بعد سینیٹ میں ٹرائل ممکنہ طور پر جنوری میں ہو گا۔

مزید پڑھیں: ڈیموکریٹس نے باضابطہ طور پر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ پیش کردیا

دوسری جانب ری پبلکن کی جانب سے نہ تو ایوان نمائندگان اور نہ ہی سینیٹ میں ٹرمپ کی برطرفی کے حق میں کوئی حمایت تاحال سامنے نہیں آئی۔

امریکی ایوان نمائندگان کی قانونی کمیٹی کے چیئرمین جیرالڈ نیڈلر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کارروائی کریں گے کیونکہ ٹرمپ نے امریکا کے آئین کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 2020 کے انتخابات کی شفافیت کو دھندلا کردیا اور قومی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

اسپیکر نینسی پیلوسی اور مواخذے کی کارروائی میں شامل ڈیموکریٹس کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں ٹرمپ کے خلاف الزامات کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کوئی بھی، یہاں تک کہ صدر بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے’۔

جیرالڈ نیڈلر کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے انتخابات جمہوریت کے لیے ایک بنیادی پتھر ہیں، ہمارے اگلے انتخابات کو صدر کی جانب سے خطرہ ہے جو پہلے ہی 2016 اور 2020 کے انتخابات کے لیے بیرونی مداخلت طلب کرچکے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی قسم کے غلط کام کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے انکوائری کو دھوکا قرار دیا۔

ایوان نمائندگان کی سماعت کو نامناسب قرار دیتے ہوئے شریک ہونے سے انکار کرنے والے وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس 2016 کے انتخابات کو غیر موثر کرنے کے لیے ایک بے بنیاد اور جانب دارانہ کوششیں کررہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفنی گریشام کا کہنا تھا کہ ‘صدر سینیٹ میں جھوٹے دعووں پر خطاب کریں گے اور توقع ہے کہ تمام خدشات ختم ہوں گے کیونکہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا’۔

یاد رہے کہ 25 ستمبر 2019 کو دیموکریٹس کی رکن اور ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اعلان کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عہدے اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:مواخذے کی تحقیقات: دوسرے مخبر کی ٹرمپ کے خلاف اہم معلومات دینے کی پیشکش

ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی قوتوں سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

امریکی تاریخ میں آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔