وزیراعظم تحفظات دور کرنے کے لیے ہفتے کو سعودی عرب روانہ ہوں گے

اپ ڈیٹ دسمبر 13 2019

ای میل

رواں برس اکتوبر میں وزیراعظم نے  خلیجی ریاستوں میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا — فائل فوٹو: وزیراعظم آفس
رواں برس اکتوبر میں وزیراعظم نے خلیجی ریاستوں میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا — فائل فوٹو: وزیراعظم آفس

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان ہفتہ( 14 دسمبر) کو سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ ریاض کو یقین دہانی کروائیں گے کہ دیگر اسلامی ممالک سے اسلام آباد کی مصروفیات کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عرب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورہ، ریاض کی جانب سے ملائیشیا میں 18 سے 20 دسمبر تک منعقد ہونے والے کوالالمپور (سمٹ) اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کے فیصلے سے ناخوش ہونے کے اشاروں کے بعد پلان کیا گیا۔

کوالالمپور سمٹ ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی سوچ ہے، اس اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوان، قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی اور ایران کے صدر حسن روحانی بھی شرکت کریں گے۔

اس کے علاوہ انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کے اجلاس میں شرکت کے بھی امکانات ہیں تاہم اطلاعات ہیں کہ وہ دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کا کوئی نمائندہ اجلاس میں شرکت کرے گا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالث بن گئے

تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ملائیشیا کا اقدام کیسا ہے لیکن سعودی پہلے ہی اس اجلاس کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا متبادل پیش کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ تیزی سے غیرفعال ہوتی اسلامی تعاون تنظیم سعودی قیادت کے ماتحت کام کرتی ہے۔

تاہم پاکستان، کوالالمپور اجلاس کے لیے بہت پرجوش ہے، اس حوالے سے وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’کوالالمپور سمٹ پاکستان کو مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز خاص طور پر حکمرانی، ترقی، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے پر تبادلہ خیال کرنے اور ان کے حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گی‘۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ یہ اجلاس اس میں شریک ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرے گا‘۔

واضح رہے کہ رواں برس ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ترکی، پاکستان اور ملائیشیا کی سہ فریقی ملاقات کے درمیان کوالالمپور اجلاس کے منصوبےکو حتمی شکل دی گئی تھی۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ریاض کو منانے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھیجا تھا جہاں انہوں نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے وزیراعظم سعودی عرب روانہ

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ’دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ ایجنڈے پر تبادلہ خیال کے علاوہ خطے میں حالیہ پیش رفت اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی تھی‘۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے گزشتہ روز ہفتہ وار بریفنگ میں وزیراعظم کے متوقع دورہ سعودی عرب سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سیاسی مذاکرات اس دوطرفہ برادرانہ تعلق کی خاصیت ہیں‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’گزشتہ برس اگست سے آپ قیادت کی سطح پر تبادلہ خیال میں تیزی دیکھ چکے ہیں، رواں برس مئی سے اب تک وزیراعظم عمران خان، سعودی عرب کے کم از کم 3 دورے کرچکے ہیں‘۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ’مستقبل میں وزیراعظم کے کسی دورے سے متعلق تفصیلات بتائی جائیں گی‘۔

گزشتہ چند ماہ سے وزیراعظم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کی تھی، تاہم اس حوالے سے ماضی کی کوششوں کی طرح حالیہ اقدام میں بھی زیادہ کامیابی نہیں ہوئی تھی۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی سے متعلق سوال پر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ’ہم سنجیدہ کوششیں کرتے رہیں گے‘۔

خیال رپے کہ رواں برس اکتوبر میں وزیراعظم عمران خان نے خلیجی ریاستوں میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔

اس سے قبل ستمبر 2018 میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے غیرملکی سرکاری دورے میں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان سے جدہ میں ملاقات کی تھی جبکہ انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تھا۔

دوحہ مذاکرات

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں گے جس سے انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز اور تشدد میں کمی ہوگی۔

امریکا طالبان مذاکرات کا آغاز گزشتہ ہفتے ہوا تھا، یہ مذاکرات اب تک تشدد میں کمی اور انٹرا افغان مذاکرات پر مبنی ہیں، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پائے گا۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ کہ دونوں فریقین کے درمیان اچھے اور مثبت ماحول میں مذاکرات ہوئے اور اب مشاورت کے لیے وقفہ لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: جس فورم پر بھی ضرورت ہوگی بھارت کا بائیکاٹ کیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ

انہوں نے کہا کہ مذاکرات چند روز بعد دوبارہ شروع ہوں گے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے’ تمام فریقین سے بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کے کردار پر نظر رکھنے پر زور دیا جو افغان تنازع کا حل دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ افغان سے متعلق ہماری پالیسی واضح ہے اور وزیراعظم بھی کئی مرتبہ دہرا چکے ہیں کہ افغان تنازع کا صرف سیاسی حل ہوسکتا ہے‘۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ یہ خوشی کی بات ہے کہ تمام عالمی طاقتیں بھی اب اس نتیجے پر پہنچ رہی ہیں'۔