لاہور ہائیکورٹ: پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت روکنے کیلئے ایک اور درخواست

اپ ڈیٹ 15 دسمبر 2019
پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور پروسیکیوٹر کی تعیناتی غیر آئینی قرار دے دیا—فائل/فوٹو:لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ
پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور پروسیکیوٹر کی تعیناتی غیر آئینی قرار دے دیا—فائل/فوٹو:لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائی کورٹ میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت میں زیر سماعت سنگین غداری کیس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کارروائی کو روکنے کے لیے ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔

پرویز مشرف کے وکلا خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق نے لاہور ہائی کورٹ میں پرویز مشرف کی اجازت سے درخواست دائر کر دی جس میں وفاقی حکومت و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف شکایات، حتمی چالان، پراسیکیوٹر کی تعیناتی اور اسلام آباد میں خصوصی عدالت کا قیام آئین پاکستان کی شق 90 اور 91 کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں:’آئین منسوخ کرنا اور ایمرجنسی لگانا دو مختلف چیزیں ہیں‘

پرویز مشرف کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس حوالے سے ایک درخواست پہلے ہی زیر سماعت ہے، اس لیے حتمی فیصلہ آنے تک خصوصی عدالت کی کارروائی کو روکنے کا حکم دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے استغاثہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی ہے جبکہ سابق صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے اس وقت کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی۔

پرویز مشرف کے وکلا نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ 2013 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنی صوابدید پر خصوصی عدالت قائم کی جو خود اس حوالے سے براہ راست متاثر ہوئے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت کوئی عمل قانون کے مطابق نہیں کیا گیا لہٰذا خصوصی عدالت کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے خصوصی عدالت کی کارروائی اور اس کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:مجھے سنا نہیں جارہا، میرے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، پرویز مشرف کا ہسپتال سے پیغام

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکلا نے اپنی درخواست میں عدالت عالیہ سے کہا ہے کہ معزز عدالت اس حوالے سے کوئی اور ریلیف مناسب سمجھے تو دے دیں۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں اسی حوالے سے ایک درخواست پہلے سے زیر سماعت ہے جس کی اگلی کارروائی 17 دسمبر کو ہوگی۔

جسٹس مظاہر علی نقوی پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے 10 دسمبر کو سماعت میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواست پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو سیکریٹری داخلہ سے ہدایت لے کر پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا۔

قبل ازیں 3 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کے لیے وقت دیا تھا۔

سنگین غداری کیس

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین و معطل کرنے کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت میں سنگین غداری کی درخواست دائر کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے 5 الزامات عائد کیے تھے لیکن عدالت کی متعدد سماعتوں میں وہ پیش بھی نہیں ہوئے، بعد ازاں بیماری کو جواز بناتے ہوئے ملک سے باہر چلے گئے تھے اور واپس وطن نہیں لوٹے۔

مزید پڑھیں:پرویز مشرف خرابی صحت کے باعث دبئی کے ہسپتال میں زیر علاج

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے رواں سال 19 نومبر 2019 کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 28 نومبر کو سنایا جانا تھا۔

تاہم مذکورہ فیصلے کو روکنے کے خلاف پرویز مشرف نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔

ساتھ ہی وفاقی حکومت نے بھی خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے باز رکھنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا البتہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تبصرے (0) بند ہیں