کراچی کے وکلا کی بھی ڈاکٹروں پر 'حملے' کی دھمکی

14 دسمبر 2019

ای میل

لاہور کے امراض قلب ہسپتال پر دھاوا بولا گیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
لاہور کے امراض قلب ہسپتال پر دھاوا بولا گیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں مبینہ طور پر وکلا کے حملے کے بعد کراچی کے کچھ وکلا نے دوبارہ ڈاکٹروں پر حملے کی دھمکی دے دی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیرگردش ایک ویڈیو میں کالے کوٹ میں موجود ایک شخص کو کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ 'ڈاکٹروں پر حملہ ہوا جبکہ پہلے ڈاکٹروں نے ہم پر حملہ کیا تھا اور ہم نے جواب دیا تھا'۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'کہیں کی بھی ہسپتال ہو چاہے سرکاری یا غیرسرکاری ہم نہیں چھوڑیں گے، یہ ملک ڈاکٹروں نے نہیں بلکہ وکلا نے بنایا تھا'۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسی دوران ان کے ساتھ موجود دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ ' ڈاکٹروں، پولیس یا دیگر کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے اگر کوئی قدم آگے بڑھا تو پورے پاکستان کے جتنے ہسپتال ہیں ہم وہاں گھس کر انہیں بہت ماریں گے'۔

مزید پڑھیں: وکلا کا دل کے ہسپتال پر دھاوا

اس دوران پہلا شخص 'وکلا پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتا ہے'۔

تاہم مذکورہ ویڈیو میں ایک اور شخص جس نے کالا کوٹ پہنا ہوا ہے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ہم 'خوش آمدید کہتے ہیں وکلا کو جنہوں نے ڈاکٹروں اور پولیس والوں کو مارا (یہ) بہت اچھا کیا ہے'۔

ویڈیو میں موجود ایک اور وکیل کا کہنا تھا کہ 'ہم وکلا برادری کے ساتھ ہیں، وکلا نے جو کیا ہے بہت اچھا ہے، ہم ان کی حمایت میں آج کراچی سے نکل رہے ہیں اور کل لاہور کا کوئی ہسپتال، ڈاکٹر نہیں بچے گا'۔

ساتھ ہی ویڈٰیو میں دیکھے جانے والے پہلے وکیل کا کہنا تھا کہ 'ہم کراچی میں بھی ڈاکٹروں کو نہیں چھوڑیں گے، اگر یہ تحفظ چاہتے ہیں تو پولیس اور ڈاکٹر ہم سے معافی مانگیں'، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کراچی بار کے انتخابات میں مصروف ہیں اور اگر زیادہ ضرورت ہوئی تو ڈاکٹروں کو جواب دیں گے اور یہ جناح ہسپتال یا کہیں بھی نہیں نکل سکتے'۔

وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ یہ جو 'ڈمی ڈاکٹر ہیں انہیں فارغ کیا جائے اور ریئل ڈاکٹروں کو لایا جائے'۔

خیال رہے کہ 11 دسمبر کو لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں مبینہ طور پر وکلا نے ہنگامہ آرائی کر کے ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی تھی جس کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 3 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی سی واقعہ: وزیر اعظم کے بھانجے کی گرفتاری کیلئے پولیس کا دوسرا چھاپہ

جس کے بعد پی آئی سی پر حملے کے بعد پولیس نے 81 وکلا کو گرفتار کرلیا تھا، لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 46 وکلا کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا جبکہ پولیس کی جانب سے پی آئی سی پر حملے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق پولیس کی درخواست مسترد کردی تھی۔

شادمان پولیس نے 200 سے 250 وکلا کے خلاف کے 2 ایف آئی آرز درج کی تھیں جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ نمبر 7 شامل ہے۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر مبینہ حملے میں ملوث ہونے پر گرفتار وکلا پر مقدمات درج ہونے کے خلاف لیگل باڈیز کی کال پر ملک بھر میں وکلا نے احتجاج کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ گرفتار کیے گئے وکلا کو ’فوری رہا‘ کیا جائے۔