‘ایم کیو ایم کو بلاول کی پیشکش سے لگتا ہے سندھ حکومت خطرے میں ہے’

اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2019

ای میل

شبلی فراز کے مطابق پیپلزپارٹی کی سیاسی پوزیشن کمزور ہے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
شبلی فراز کے مطابق پیپلزپارٹی کی سیاسی پوزیشن کمزور ہے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری کی جانب سے ان کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو وفاق میں اتحاد توڑنے کی پیشکش کو نامناسب قرار دے دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کی ایم کیو ایم پاکستان کو کی گئی پیشکش پر ردعمل میں شبلی فراز نے کہا کہ ‘بلاول بھٹو کو اپنی سیاست اور حکومت خطرے میں لگ رہی ہے’۔

سینیٹ میں قائد ایوان کا کہنا تھا کہ ‘ایم کیو ایم کو پیشکش سے متعلق بیان سے لگتا ہے سندھ حکومت خطرے میں ہے اور بلاول بھٹو کی پیشکش بھی اسی کی عکاسی کرتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بلاول بھٹو کا اس طرح کا بیان نہ تو ملک کی خدمت ہے اور نہ ہی جمہوریت کی خدمت ہے، انہیں اس طرح کی باتیں زیب نہیں دیتیں’۔

مزید پڑھیں:بلاول بھٹو کی پیشکش: ہماری پارٹی اس پر سوچ سکتی ہے، وسیم اختر

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ‘بلاول بھٹو، ایم کیو ایم پاکستان کو لالچ دے کر مفادات کی سیاست کر رہے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن مضبوط نہیں ہے اور خود کو مضبوط کرنے کے لیے سہارا ڈھونڈ رہی ہے’۔

ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے اتحاد پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد وزارتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہے اور ایم کیو ایم ایک مضبوط اتحادی جماعت کی طرح ہمارے ساتھ کھڑی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایم کیو ایم اور ہمارے درمیان کوئی غلط فہمی یا مسائل نہیں ہیں اور ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کراچی اور پورے ملک کی بہتری کے لیے چلتا رہے گا’۔

واضح رہے کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب میں ایم کیو ایم پاکستان کو کراچی کی بہتری کے لیے پی ٹی آئی کا اتحاد ختم کرکے سندھ حکومت میں وزارتیں لینے کی پیشکش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:'ایم کیو ایم وفاقی حکومت گرانے میں ساتھ دے، سندھ میں وزارتیں دینے کو تیار ہیں'

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پرانے ساتھی ہیں اور کراچی میں ترقیاتی کام کے لیے وفاقی حکومت سے فنڈز نہیں ملتے اس لیے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کو گرانے میں ہمارے ساتھ دیں تو انہیں سندھ میں وزارتیں دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے اس کو روکا جاسکتا ہے، جس کے لیے ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے اتحاد ختم کرے اور عمران خان کی حکومت کو گرا دیں۔

بعد ازاں میئر کراچی وسیم اختر نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر ہماری پارٹی سوچ سکتی ہے کیونکہ یہ کسی کا انفرادی معاملہ نہیں ہے۔