آخر انگریزی الفاظ کے ہجے اور تلفظ اتنے مختلف کیوں ہوتے ہیں؟

04 جنوری 2020
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ انگریزی لکھنے بلکہ بولنے کی کوشش کررہے ہوں تو اس زبان کے ہجے (اسپیلنگ) کسی ظالمانہ مذاق سے کم نہیں لگتے۔

چاہے آپ مکمل طور پر انگلش بولنے میں مہارت ہی کیوں نہ رکھتے ہو، مگر ایسی صورتحال کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جب یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ آخر انگلش الفاظ کا تلفظ اتنا مشکل اور ہجوں سے مختلف کیوں ہوتا ہے۔

اس کے چند جوابات اپنی جگہ دنگ کردینے والے ہیں، جو ہوسکتا ہے آپ کو مطمئن تو نہ کرسکیں گے مگر کسی حد تک آپ اس زبان کی مشکلات کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

ہجے تو طے شدہ ہیں مگر تلفظ میں مسلسل تبدیلی آئی

جب تک پرنٹنگ پریس سامنے نہیں آیا تھا، انگلش الفاظ کے ہجے بھی کافی لچکدار تھے اور لوگ اپنی مرضی کے مطابق ان کو لکھتے تھے اور تلفظ کی روایات سے مطابقت کی ہرممکن کوشش کرتے تھے۔

مگر جب 1400 کے اواخر میں پرنٹنگ پریس برطانیہ میں کام کرنے لگے تو تحریر زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل گئی اور پرنٹرز نے اسپیلنگ کو طے کردیا اور بدقسمتی سے اس وقت سے ہی یہ ہجے ویسے ہی ہیں، جبکہ اس دوران تلفظ میں بڑے پیمانے میں تبدیلیاں آئیں۔

قرون وسطیٰ کی انگلش اب جدید انگلش کا روپ اختیار کرچکی ہے اور لوگوں نے بیشتر الفاظ میں سائیلنٹ حروف استعمال کرنا شروع کردیئے جیسے knee کا k سائیلنٹ ہوگیا، write میں w غائب ہوگیا اور ایسے ہی لاتعداد الفاظ بیان کیے جاسکتے ہیں۔

اسی طرح حلق سے نکلنے والے الفاظ جیسے gh والے الفاظ سائیلنٹ کردیئے گئے اور ان کے تلفظ میں آنے والی تبدیلیاں دنیا بھر میں پھیل گئیں، جبکہ اسپیلنگ اپنی جگہ فکس ہوگئے۔

پڑھا لکھا طبقہ 15 ویں صدی تک فرنچ استعمال کرتا تھا

جب فرانس کے نورمین خاندان نے 1066 میں برطانیہ پر حملہ کیا تو وہ ساتھ اپنے الفاظ بھی لائے، اس وقت عام عوام تو انگلش بولتے تھے، فرنچ زبان کو یونیورسٹیوں اور عدالتوں میں استعمال کیا جاتا تھا، جن کے استعمال سے بتدریج پوری انگلش لغت پر اثرات مرتب ہوئے، اس زمانے کے بیشتر فرنچ الفاظ کا انگلش تلفظ اور اسپیلنگ کو اپنالیا گیا، جو اب لوگوں کا سردرد بنے ہوئے ہیں۔

لاطینی اور یونانی زبانوں کے اثرات

16ویں اور 17 ویں صدی میں کچھ مصنفین کی جانب سے لاطینی اور یونانی زبانوں پر مبنی انگلش حروف کے اسپیلنگ متعارف کرائے گئے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان الفاظ کا تلفظ ہجوں کے مطابق نہیں تھا، مگر اس زمانے میں ان کا استعمال کرنے والے زیادہ پڑھے لکھے لگتے تھے اور ان کا استعمال پسند کیا جاتا تھا جیسے لفظ February جو کہ لاطینی لفظ Februarius سے لیا گیا مگر اس کا تلفظ Feverere تھا، ان کے نتیجے میں debt اور doubt میں بی کا اضافہ ہوا حالانکہ بولنے میں ان کا استعمال نہیں ہوتا، ایسے متعدد الفاظ کی فہرست تلاش کی جاسکتی ہے۔

ان لاطینی الفاظ کا دور دراز کا تعلق فرنچ سے بھی تھا اور انہیں انگلش میں اضافی ساﺅنڈ کے بغیر ادھار لیا گیا تھا مگر ان میں چند حروف کا اضافہ کردیا گیا جن کا تلفظ سے کچھ لینا دینا نہیں تھا جیسے island میں s آگیا، جس کی کوئی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی، یہ لفظ پرانے انگلش لفظ iglund سے لیا گیا اور بعد میں اسے ilande لکھا جانے لگا مگر فینسی دکھانے کے لیے لاطینی زبان سے insula کے s کا اضافہ کردیا گیا اور یہ لفظ زیادہ پیچیدہ ہوگیا۔

بیشتر الفاظ کے ہجے ادھار لیتے ہوئے بدلے نہیں گئے

جیسا اوپر درج ہوچکا ہے کہ انگلش میں بیشتر الفاظ 1066 کے بعد فرنچ زبان سے آئے، جس کے 700 سال بعد مزید الفاظ فرنچ سے لیے گئے، جن کے ہجے تو برقرار رکھے گئے مگر تلفظ خود مرتب کیا گیا، تو اب وہ تلفظ آگے نکل گیا مگر ہجے وہی رہ گئے جو انگلش نہ بولنے والوں کے لیے دردسر بنے رہتے ہیں، جبکہ جیسے جیسے انگلش دنیا میں پھیلی تو دیگر زبانوں کے الفاظ بھی اس کا حصہ بنے مگر اصول وہی رہا، ہجے تو یکساں رہے مگر تلفظ بدلتا گیا۔

تبصرے (1) بند ہیں

یمین الاسلام زبیری Jan 05, 2020 01:28am
مضمون بہت اچھا ہے۔ البتہ اننگریزی کے بہت سے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے اردو متبادل موجود ہیں، اور اچھے ہی ہیں۔ ایک چیز اور سمجھ میں نہیں آئی کہ پہلے جلی پیراگراف میں ہجا اور سپیلنگ کے دونوں الفاظ کیوں استعمال کیے گئے ہیں۔ میرے خیال میں دونوں ہی الفاظ پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے خوب سمجھتے ہیں۔ وہ سوا لائین کا پیرا گراف یہ ہے: اگر آپ انگریزی لکھنے بلکہ بولنے کی کوشش کررہے ہوں تو اس زبان کے ہجے (اسپیلنگ) کسی ظالمانہ مذاق سے کم نہیں لگتے۔