بھارتی سپریم کورٹ کا مقبوضہ کشمیر میں تمام پابندیوں کے ازسرِِ نو جائزے کا حکم

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2020

ای میل

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 سے کرفیو نافذ ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 سے کرفیو نافذ ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

بھارت کی سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ایک ہفتے میں مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 سے عائد تمام پابندیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں نافذ کرفیو کے تحت نقل و حرکت اور مواصلاتی پابندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ انٹرنیٹ کی آزادی بنیادی حق ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جسٹس این وی رامانا، آر سبھاش ریڈی اور بی آر گوائی پر مشتمل عدالتی بینچ نے بھارت کی مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں مقبوضہ کشمیر میں تمام پابندیوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا ۔

بھارتی سپریم کورٹ بینچ نے کہا کہ ’ آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار رائے کے ساتھ انٹرنیٹ تک رسائی کا حق شامل ہے لہٰذا انٹرنیٹ پر پابندیوں کے لیے آرٹیکل 19(2) کے تحت تناسب کے اصولوں پر عمل کرنا ہوتا ہے‘۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

دی وائر کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی خاص مدت کے بغیر اور غیر معینہ مدت‘ تک انٹرنیٹ کی معطلی ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی بینچ نے کہا کہ پابندیوں سے متعلق تمام احکامات کو شائع کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں عدالت میں چیلنج کیا جاسکے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ من مانی کرتے ہوئے بنیادی اختیارات پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔

عدالتی بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’ ہماری محدود تشویش لوگوں کی آزادی اور سیکیورٹی سے متعلق توازن تلاش کرنا ہے، ہم شہریوں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں، ہم ان احکامات کے پیچھے موجود سیاسی خواہشات تلاش نہیں کریں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں شٹ ڈاؤن سے ایک ارب ڈالر کا نقصان

امریکی خبررساں ادارے ’اے پی ‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی دفاعی اٹارنی جنرل ورندا گروور نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن سے متعلق تمام احکامات پبلک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ انٹرنیٹ کی معطلی سے آزادی صحافت متاثر ہوتی ہے جو آزادی اظہار رائے کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس رہنما غلام نبی آزاد اور کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر انورادھا بھاسن مذکورہ کے مرکزی درخواست گزاران تھے۔

انورادھا بھاسن نے کہا کہ پابندیوں کی وجہ سے آزادی صحافت ، بنیادی سروسز یہاں تک کہ خاندانوں کے درمیان مواصلاتی رابطے ختم ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے لے کر اب تک مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے چند ماہ بعد فون کالز اور محدود ٹیکسٹ میسیجز کی اجازت دی گئی تھی تاہم انٹرنیٹ سروسز تاحال معطل ہیں۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا تھا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔

بعدازاں 31 اکتوبر کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سخت سیکیورٹی کی موجودگی اور عوامی غم و غصے کے باوجود وادی پر براہِ راست وفاقی حکومت کی حکمرانی کا آغاز کیا تھا جس سے متنازع علاقہ اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم ہوگیا تھا۔

بھارت نے مواصلاتی بندش کے علاوہ کشمیر کے مقامی رہنماؤں کو گرفتار، ان کے سفر پر پابندی عائد کی تھی اور ہزاروں اضافی فوجیوں کو سیکیورٹی خدشات ظاہر کرتے ہوئے وادی میں تعینات کیا تھا۔

مقبوضہ وادی میں کریک ڈاؤن کی وجہ سے سیاحت کے علاوہ زراعت، باغات اور آرٹس اینڈ کرافٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔