ایم کیو ایم کو کسی اور وزارت کیلئے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، مرتضیٰ وہاب

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

دو روز قبل خالد مقبول صدیقی نے وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا — فوٹو: ڈان نیوز
دو روز قبل خالد مقبول صدیقی نے وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا — فوٹو: ڈان نیوز

مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو اپنے فیصلے پر اصولی اعتبار سے کھڑے رہنا چاہیے اور کسی اور وزارت کے لیے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کو دی گئی پیشکش آج بھی موجود ہے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب میں ایم کیو ایم پاکستان کو کراچی کی بہتری کے لیے پی ٹی آئی کا اتحاد ختم کرکے سندھ حکومت میں وزارتیں لینے کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پیشکش سندھ حکومت کے لیے نہیں تھی بلکہ سندھ کے عوام کے مسائل سے متعلق موثر طریقے سے وفاق کے سامنے لڑنے کے لیے کی تھی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہماری پیشکش ایک ناکام اور نکمی حکومت کو بے نقاب کرنے اور جعلی مینڈیٹ کے ساتھ قائم اتحادی حکومت کو ختم کرنے کے لیے تھی۔

مزید پڑھیں: حکومت، ایم کیو ایم وفود کی 'ملاقات': خالد مقبول وزارت چھوڑنے کے فیصلے پر قائم

مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ یہ بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے کہ جو بات انہوں نے کچھ ہفتے پہلے کی تھی اور یہ اس کا نتیجہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے یہ فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کو اپنے اس فیصلے پر اصولی اعتبار سے کھڑے رہنا چاہیے اور انہیں کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑے رہنا چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے کراچی والوں سے بہت وعدے کیے، 162 روپے کے ترقیاتی فنڈ سے متعلق بات کی لیکن ایک وعدہ بھی وفا نہیں کیا، چاہے وہ ترقیاتی پیکیج ہو، کے ایم سی، حیدرآباد یا مٹھی کے ہسپتال کی فنڈنگ ہو۔

مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک بھی وعدہ وفا نہیں کیا اس لیے میں ایم کیو ایم سے مودبانہ گزارش کروں گا کہ خدارا کراچی کا مقدمہ پُرزور طریقے سے لڑیں اور کسی اور وزارت کے لیے سمجھوتہ نہیں کیجیے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خالد مقبول صدیقی کا وزارت آئی ٹی چھوڑنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر کراچی والوں کا مقدمہ لڑیں گے تو وفاقی حکومت کو 162 ارب روپے ترقیاتی پیکیج کے لیے منتقل کرنے ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے گلشن اقبال سے الیکشن لڑا اور کیا وہاں جو وعدے کیے وہ پورے کیے؟ میں گزارش کرتا ہوں کہ یا تو وعدہ کرنے ہی نہیں چاہیے تھے اور اگر کریں تو انہیں وفا کریں۔

ایم کیو ایم کے تحفظات

دو روز قبل خالد مقبول صدیقی نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے وزارت میں بیٹھنے سے کراچی کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، میرٹ کے قیام، انصاف اور سندھ کے شہری علاقوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے لیکن سب باتیں کاغذوں تک محدود رہیں۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم اور ہم ایک جماعت نہیں، انہیں اختلاف کا پورا حق ہے، فواد چوہدری

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 'میرے لیے ایسی صورت حال میں وزارت میں بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ حکومت میں بیٹھے رہیں اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام انہی مشکلات کا سامنا کرتے رہیں جن کا وہ ہمارے حکومت میں آنے سے قبل سامنا کر رہے تھے'۔

ایم کیو ایم کی جانب سے ایک عرصے سے حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کرنے اور کراچی اور حیدرآباد کو نظرانداز کرنے کا شکوہ کیا جاتا رہا ہے۔

جس کے بعد گزشتہ روز پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے ایک وفد نے اپنی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی تھی تاہم وہ ایم کیو ایم کو منانے میں ناکام رہے تھے جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی وزارت سے مستعفی ہونے کے اپنے اعلان پر قائم تھے۔