پشاور: پولیس چیک پوسٹ کے قریب دھماکا، 10 افراد زخمی

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

ابتدائی شواہد کے مطابق دھماکا دیسی ساختہ بارودی مواد کا تھا، ایس ایس پی آپریشنز — فوٹو: ڈان نیوز
ابتدائی شواہد کے مطابق دھماکا دیسی ساختہ بارودی مواد کا تھا، ایس ایس پی آپریشنز — فوٹو: ڈان نیوز
زخمیوں میں سے 2 خواتین کی حالت نازک ہے، ترجمان ایچ ایم سی — فوٹو: سراج الدین
زخمیوں میں سے 2 خواتین کی حالت نازک ہے، ترجمان ایچ ایم سی — فوٹو: سراج الدین

پشاور کی کارخانو پولیس چیک پوسٹ کے قریب دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور پولیس اہلکار سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا جس کے ترجمان نے کہا کہ 9 زخمیوں کو یہاں لایا گیا جن میں 5 خواتین اور 4 مرد شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے 2 خواتین کی حالت نازک ہے۔

تاہم ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی نے دھماکے میں 10 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل اسکواڈ شفقت ملک نے کہا کہ دھماکا دستی بم کا تھا اور اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

دھماکے کی تفصیلی رپورٹ طلب

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کارخانو مارکیٹ پشاور میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور صوبائی آئی جی سے اس کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: مسجد میں دھماکا، ڈی ایس پی سمیت 15 افراد جاں بحق

انہوں نے متعلقہ حکام کو واقعے کے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے۔

دوسری جانب وزیر صحت خیبر پختونخوا شہرام خان ترکئی نے دھماکے کے زخمیوں کی ہسپتال میں عیادت کی۔

شہرام ترکئی زخمیوں کی عیادت کر رہے ہیں — فوٹو: سراج الدین
شہرام ترکئی زخمیوں کی عیادت کر رہے ہیں — فوٹو: سراج الدین

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو تمام تر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، 7 زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ 3 کی حالت تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار اور 9 شہری زخمی ہوئے جبکہ دھماکا دستی بم سے ہوا۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

چند روز قبل کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی مسجد و مدرسہ میں خودکش دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اور مسجد امام سمیت 15 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

19 دسمبر کو لنڈی کوتل میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں فرنٹیئر کور کا اہلکار شہید ہو گیا تھا۔

قبل ازیں 16 دسمبر کو صوبائی اسمبلی کے باہر بم دھماکے میں 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ معلوم ہوا تھا کہ دھماکا خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے پارکنگ میں کھڑے رکشے میں ہوا۔