فرانس: درسی کتاب میں سی آئی اے کو نائن الیون کا ذمہ دار قرار دینے پر معذرت

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2020

ای میل

نائن الیون کے حوالے سے کتاب میں تحریر کی نشان دہی اسکول کے اساتذہ کے ایک گروپ نے کی—فائل/فوٹو:اے پی
نائن الیون کے حوالے سے کتاب میں تحریر کی نشان دہی اسکول کے اساتذہ کے ایک گروپ نے کی—فائل/فوٹو:اے پی

فرانس کے ایک پبلشر نے تاریخ کی درسی کتاب میں امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملے کا ذمہ دار امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کو قرار دینے پر معذرت کر لی۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں حالیہ دنوں میں کتابوں کی دکانوں میں تاریخ کی درسی کتاب سامنے آئی تھی جس میں تحریر تھا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے لیے غالباً ‘سی آئی اے نے منصوبہ بندی’ کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس مہم کو بظاہر اسکول کے اساتذہ کے ایک گروپ نے سوشل میڈیا میں اٹھایا تھا جبکہ 'ہسٹری آف ٹوئنٹیتھ سنچری ان فلیش کارڈز' نامی یہ کتاب انڈر گریجویٹ کے طلبہ کے لیے تیار کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کے حالات بدل دینے والے 9/11 حملوں کو 18 برس مکمل

کتاب کے پبلشر 'الیپسز' نے اپنی ویب سائٹ میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریر شامل نہیں ہونی چاہیے تھی۔

فرانسیسی زبان میں جاری معذرت میں انہوں نے لکھا کہ ‘حقائق سے خالی سازشی تھیوری پر مشتمل تحریر کو اس کتاب میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ پبلشر کی ادارتی یا مصنف کی رائے کا اظہار نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ مصنف ان الفاظ کو مٹانا چاہتے ہیں، آن لائن اور ان تمام کتابوں میں جن کو مارکیٹ نہیں بھیجا گیا ہے ان میں بھی درستی کرنا چاہتے ہیں۔

کتاب کو فرانس، یورپ اور دنیا کی اس صدی کی تاریخ پر مشتمل قرار دیا گیا تھا جس کے مصنف تاریخ اور جغرافیہ کے استاد ہیں اور پیرس کی سائسنز پو یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ کتاب نومبر 2019 میں مارکیٹ میں آئی تھی لیکن اب تک اس کی نشان دہی کرنے والے اسکول کے استاد کی بیٹی کے علاوہ کسی اور نے نہیں خریدی۔

مصنف نے کتاب کے صفحہ نمبر 204 میں نیویارک اور واشنگٹن میں پیش آنے والے نائن الیون واقعات اور القاعدہ کی تخلیق پر روشنی ڈالی جس کے بعد سی آئی اے کے حوالے سے لکھا۔

مزید پڑھیں:'پاکستان نے نائن الیون کے بعد امریکا کی حمایت کر کے بڑی غلطی کی'

انہوں نے کتاب میں لکھا کہ ‘کوئی شک نہیں اس عالمی واقعےکی منصوبہ بندی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے امریکی طاقت کی علامتوں کو نشانہ بنا کر کی تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھایا جائے’۔

کتاب کے حوالے سے پہلی رپورٹ 'کنسپائریسی واچ' نے اپنی ویب سائٹ میں شائع کی جس میں نشان دہی کی گئی تھی کہ 11 ستمبر کے واقعے کے حوالے سے غلط تشریح کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر 2018 میں ایک سروے کیا گیا تھا جس میں 35 سال سے کم عمر کے 21 فیصد افراد اس خیال کی حمایت کرتے ہیں کہ امریکی حکومت اس میں ملوث تھی اور اسی عمر کے افراد درسی کتابیں پڑھتے ہیں۔

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو نیویارک اور واشنگٹن پر کیے گئے حملوں کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ القاعد کے 19 ارکان نے جہاز اغوا کرنے کے بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون اور پنسلوانیا سے ٹکرائے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اس حملے میں کم از کم 2 ہزار 997 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ خالد شیخ محمد کو گرفتار کیا گیا تھا جو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی تھے۔