کورونا وائرس: چین کے دیگر شہروں میں بھی ٹرانسپورٹ معطل،عبادت گاہیں بند

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

اسٹورز کے باہر ادویات خریدنے والوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں —تصویر: رائٹرز
اسٹورز کے باہر ادویات خریدنے والوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں —تصویر: رائٹرز

چین میں پھیلنے والے کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی جبکہ اس وائرس سے اب تک 800 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

حکام نے اس وبائی آفت کے پیشِ نظر 10 شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل، عبادت گاہیں بند اور متاثرہ افراد کے علاج کے لیے تیزی سے ہسپتال تعمیر کرنے کے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق چین کے 13 شہروں میں ٹرانسپورٹ معطل کردی گئی ہے جبکہ ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کو عملی طور پر محصور کردیا گیا ہے۔

شنگھائی میں ڈرنی لینڈ پارک کو غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ دیوار چین کے بعض حصوں کو بھی سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے نئے کورونا وائرس کو چین کے لیے ایمرجنسی قرار دیا تھا اس وبا کو عالمی سطح پر باعث تشویش نہیں کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے شہر کا لاک ڈاؤن کردیا گیا

صحت حکام کو خوف ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد میں قمری سال کے آغاز کے موقع پر یک دم اضافہ ہوسکتا ہے جب دنیا بھر سے چینی مسافر ایک ہفتے کی چھٹیوں پر اپنے آبائی وطن واپس آئیں گے۔

جمعرات تک چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے وائرس سے 8 سو 30 افراد کے متاثر ہونے اور 25 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

وائرس کس طرح پھیلا؟

ہلاکت خیز کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں سامنے آئے، خیال کیا جارہا ہے کہ اس شہر میں موجود ایک مارکیٹ میں غیر قانونی طور پر جنگلی حیات کی خرید و فروخت کی جاتی ہے جہاں سے ہی یہ وائرس پھیلا۔

متاثرہ مریضوں کیلئے ایک ہزار بیڈ پر مشتمل ہسپتال پیر تک تعمیر ہوجائے گا—تصویر:اے ایف پی
متاثرہ مریضوں کیلئے ایک ہزار بیڈ پر مشتمل ہسپتال پیر تک تعمیر ہوجائے گا—تصویر:اے ایف پی

ابتدائی تحقیق میں یہ کہا گیا کہ وائرس کی حالیہ شکل سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سانپوں کے ذریعے انسانوں میں پہنچا۔

واضح رہے کہ ٹرانسپورٹ کا مرکز اور ایک کروڑ 10 لاکھ نفوس کی آبادی پر مشتمل شہر ووہان ایک لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں ہے۔

شہر میں ریلوے اسٹیشن بند ہیں تاہم ٹرینوں کو شہر سے گزرنے کی اجازت ہے، پروازیں معطل کردی گئیں ہیں اور مرکزی سڑکوں پر چیک پوائنٹس قائم کردیے گئے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ہی موجود شہر ہوانگینگ میں بھی ان اقدامات کا اعلان کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: چین: انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے مہلک وائرس کے پھیلنے کی تصدیق

اس کے علاوہ ووہان شہر میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا جس کے لیے بھاری مشینری سائٹ پر پہنچادی گئی اور پیر تک اسے مکمل کرنے کا ارادہ ہے۔

کورونا وائرس سانس کے ذریعے پھیل سکتا ہے اور اس کی علامتوں میں بخار، سانس لینے میں مشکلات اور کھانسی آنا شامل ہیں۔

ان تمام اقدامات کے علاوہ تین تحقیقی ٹیمز نے اس وائرس کے علاج کی موثر ویکسین کی تیاری شروع کردی ہے اور امکان کے ایک ویکسین کو طبی آزمائش کے لیے جون تک پیش کردیا جائے گا۔

دوسری جانب چینی حکام نے عوام کو ہدایت کی کہ قمری سال کی چھٹیوں کے موقع پر پُرہجوم محفلوں میں شرکت سے گریز کریں۔

تفریحی مقامات اور مندر بند

ووہان کے علاوہ صوبہ ہوبے کے دیگر 10 شہروں میں بھی بسز کی آمدو رفت معطل کردی گئی ہے زنجیانگ میں ہسپتال، سپر مارکیٹس، کسانوں کی منڈیوں، پیٹرول پمپس اور میڈیکل اسٹورز کے علاوہ تمام عوامی مقامات بند کردیے گئے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے ووہان کی سڑکیں سنسان پڑی ہیں—تصویر:اے پی
پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے ووہان کی سڑکیں سنسان پڑی ہیں—تصویر:اے پی

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چین کے مشہور مندروں کو بھی بند کردیا گیا جبکہ بیجنگ کا لاما مندر جہاں روایتی طور پر لوگ نئے سال کی عبادت کرنے جاتے ہیں جمعے سے بند کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں کورونا وائرس کے پیش نظر پاکستان میں الرٹ جاری

اس کے علاوہ بیجنگ میں بھی بڑے عوامی مقامات اور شہر میں موجود سیاحوں کے مرکز کو بند کردیا گیا ہے۔

ہانک کانگ جہاں 2 کیسز رپورٹ ہوئے تھے وہاں 2 بڑے ہالیڈے کیمپس کو احتیاطی تدابیر کے طور پر مریضوں کو رکھنے کی علیحدہ جگہ میں تبدیل کردیا گیا جبکہ تائیوان نے ووہان سے آنے والے مسافروں پر پابندی لگادی۔

علاوہ ازیں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے چین کے سفر سے احتیاط برتنے اور ملک میں داخلے کے وقت ایئرپورٹس پر مسافروں کی اسکریننگ شروع کردی ہے۔