حکومت کی معاشی پالیسی میں ’اچانک یوٹرنز‘ سے صنعتیں مایوس

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

برآمدی شعبے کو سبسڈی بنیادی نرخوں کی حد تک دی گئی تھی—تصویر: اے ایف پی
برآمدی شعبے کو سبسڈی بنیادی نرخوں کی حد تک دی گئی تھی—تصویر: اے ایف پی

اسلام آباد: گزشتہ 18 ماہ کے دوران بجلی کی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد اضافے کے بعد حکومت اور ملک کے بڑے کاروباری اداروں کے درمیان سنگین چپقلش شروع ہوگئی ہے۔

ملک کے ریونیو میں 18 فیصد حصص رکھنے والے پاکستان کے 82 بڑے بزنس ہاؤسز پر مشتمل پاکستان بزنس کونسل نے حکومت پر پالیسی معاملات میں اچانک یوٹرنز لینے کا الزام لگایا کہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ملک کی استعداد پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل 400 ٹیکسٹائل یونٹس پر مشتمل آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن (ایپٹما) نے حکومت کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ برآمدی صنعتوں کو مقررہ 7.5 پیسے فی یونٹ کی قیمت پر بجلی فراہم کرنے کے وعدے پر عمل نہیں کررہی۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی دباؤ کے باعث حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ روک دیا

دوسری جانب پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی سہولت واپس نہیں لی لیکن برآمدی شعبے کو سبسڈی بنیادی نرخوں کی حد تک دی گئی تھی اور دیگر چیزیں مثلاً سرچارجز وغیرہ صنعتوں کو ادا کرنے ہوں گے۔

ڈویژن کے مطابق محدود بجٹ کے باعث بنیادی نرخ کے علاوہ اضافی لاگت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ متعدد وزارتوں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت منظر عام پر آیا جب 13 جنوری کو پاور ڈویژن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی تھی کہ 7.5 پیسے کے علاوہ بل میں تمام اضافی چارجز مثلاً مالی لاگت سرچارج، نیلم جہلم سرچارج، ٹیکسز فکسڈ سرچارج، چار ماہ بعد ہونے والا ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور ایندھن کی قیمتوں کا ایڈجسمنٹ شامل کردیے جائیں۔

جس پر ایپٹما نے وزیر توانائی عمر ایوب کو خط لکھ کر ان کی وزارت کی جانب سے 8 فروری 2019 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ای سی سی نے واضح کیا ہے کہ زیرو ریٹڈ صنعتوں کو 7.5 پیسے فی یونٹ ادا کرنے ہوں گی اور مذکورہ بالا دیگر چارجز اس صنعت پر لاگو نہیں ہوں گے لیکن یہ اس سبسڈی کا حصہ ہوں گے جس کا دعویٰ حکومت نے کیا۔

مزید پڑھیں: بجلی کی قیمت میں ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری

ادھر پاکستان بزنس کونسل نے بھی سخت الفاظ میں دیئے گئے بیان میں کہا کہ وہ ‘حکومتی پالیسی میں ایک اور اچانک یوٹرن‘ سے مایوس ہوئے، جو اگر واپس نہیں لیا گیا تو پاکستان کی برآمدات کے لیے خطرہ اور سرمایہ کاری کی گنجائش اور صلاحیت کم کرسکتا ہے۔

پی بی سی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ پالیسی تبدیل کرنے کا پہلا اقدام نہیں جس کے منفی اثرات بزنس پر پڑیں، قبل ازیں فنانس ایکٹ 2019 میں پہلے سے تعمیر شدہ یا 30 جون تک بننے والے پلانٹس اور مشینری میں سرمایہ کاری کے لیے ٹیکس کریڈٹ نصف کردیا تھا، اس میں یکم جولائی سے 30 جون 2021 کے درمیان کی جانے والی سرمایہ کاری پر دی جانے والی 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ کو بھی مکمل طور پر ختم کردیا تھا۔

پی بی سی کا مزید کہنا تھا کہ ’مایوس کن اثرات کے حامل پالیسی یو ٹررنز برآمداتی مسابقت، درآمدی متبادل، سرمایہ کاری یا ملازمتوں کے لیے سازگار نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: اگلے 9 مہینے ’کے الیکٹرک‘ کراچی والوں کی جیب سے کتنے اضافی پیسے لے گی؟

بزنس کونسل کے مطابق تیسرا حالیہ پالیسی یوٹرن موبائل فونز پر درآمدی ڈیوٹی کم کرنا ہے، کونسل کا کہنا تھا کہ درآمدی ڈیوٹی اس لیے بڑھائی گئی تھی کہ مقامی پیداوار میں اضافہ ہو جس کے بعد متعدد سرمایہ کاری بھی آئی تھیں لیکن اب اسے واپس لے لیا گیا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی صنعت کی مسابقت بحال کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ان تمام یوٹرنز پر نظرِ ثانی کرے۔