بھارت کے یومِ جمہوریہ پر لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

کشمیری اور سکھ تنظیموں نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا—تصویر: ڈان
کشمیری اور سکھ تنظیموں نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا—تصویر: ڈان

لندن: بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر سیکڑوں کشمیریوں اور سکھ مظاہرین نے یومِ سیاہ منایا اور بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا۔

مظاہرین لندن کے ساتھ ساتھ برمنگھم اور دیگر شہروں سے بسز اور کوچز کے ذریعے ایڈویچ پہنچے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کے مظالم کے خلاف پلے کارڈز اور بیننرز اٹھا رکھے تھے۔

احتجاجی تنظیموں کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور مواصلاتی روابط کی بندش جاری ہے ایسے میں بھارتی حکومت کا یومِ جمہوریہ منانا منافقت ہے۔

تحریک کشمیر برطانیہ، خالصتان موومنٹ برطانیہ اور گلوبل پاکستان اینڈ کشمیر سپریم کونسل نے مشترکہ طور پر بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کے یوم جمہوریہ پر متنازع قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج

تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فیم کیانی کا کہنا تھا کہ ’بھارت کا 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ منانے کا اخلاقی جواز نہیں جبکہ اس نے مقبوضہ جموں کشمیر کو جیل بنا رکھا ہے اور 5 اگست 2019 سے میڈیا کو بھی مقبوضہ وادی سے رپورٹنگ کرنے کو دباؤ کا سامنا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے یومِ جمہوریہ کے خلاف احتجاج محاصرے میں رہنے والے افراد کو ایک اچھا پیغام پہنچائے گا کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں۔

مظاہرے سے ایک ہفتے قبل برطانیہ میں موجود بھارتی سفارتکاروں نے اتوار کے احتجاج کو روکنے کی متعدد کوششیں کیں اور اس سلسلے میں شہری انتظامیہ کو خط لکھ کر تشدد کا خطرہ ظاہر کیا۔

برطانیہ میں بھارتی سفیر روچی گناشیام نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے احتجاج کے منصوبے کے حوالے سے ’خدشات کا اظہار‘ کیا۔

مزید پڑھیں: دنیا مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں فسطائی نظریہ مسلط کرنے کو تسلیم کر رہی ہے

بھارتی سفیر کا کہنا تھا کہ ’یہ سچ ہے کہ ہم نے برطانیہ کے ہوم سیکریٹری کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ہم نے ایسا اس لیے کیا کہ کیوں کہ ہم اپنے ملک کے عوام اور ہائی کمیشن کے بارے میں فکر مند ہیں جو اس اہم موقع پر پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئیں گے۔

بھارتی سفیر نے بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر احتجاج روکنے کے لیے لندن کے میئر صادق خان کے علاوہ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے بھی رابطہ کیا تھا۔

تاہم بھارتی مشن کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ احتجاج کا اعلان کرنے والوں نے مظاہرہ پر امن رہنے کا وعدہ کیا تھا جس کی وجہ نے برطانوی حکام نے احتجاجی مظاہروں پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں فیم کیانی نے بتایا کہ آرگنائزرز نے لندن پولیس کو یقین دہانی کروائی تھی کہ عوام احتجاج کر کے اپنا جمہوری حق استعمال کرے گی اور اس دوران کمیونٹی پر امن رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 2019 مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جبر کا بدترین سال

انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہ واضح ہے کہ بھارت نے صرف سیاسی بنیادوں پر احتجاج روکنے کی کوششیں کیں اس لیے ہم نے اپنے تمام شرکا سے قانون کے مطابق احتجاج کرنے اور پولیس کو ان کے فرائض کی انجام دہی میں تعاون کرنے کا کہا ہے‘۔

یاد رہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے وادی میں کرفیو نافذ جبکہ مواصلاتی روابط کو منقطع کردیا تھا۔

بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر وادی میں اضافی فوجی دستے تعینات کیے گئے، بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق پولیس اور نیم فوجی دستوں نے شہر کی سڑکیں سیل کردی تھیں اور صرف خصوصی پاس والی گاڑیوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت تھی۔

اس وجہ سے ایک گروپ نے سیکیورٹی کے نام پر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یومِ جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کیا۔

سری نگر میں مقبوضہ کشمیر کے 3 سابق وزرائے اعلیٰ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اب بھی زیر حراست ہیں اور سرکاری تقریب میں کشمیر کے نمایاں سیاستدانوں میں سے صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے روندرا رائنا نے شرکت کی۔


یہ خبر 27 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔