چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 80 ہوگئیں، وزیراعظم کا متاثرہ شہر ووہان کا دورہ

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

یہ وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں رواں ماہ پھیلنا شروع ہوا تھا — فوٹو: اے ایف پی
یہ وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں رواں ماہ پھیلنا شروع ہوا تھا — فوٹو: اے ایف پی

چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کا دورہ کیا جبکہ وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے۔

برطانوی خبرساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ووہان کے ایگزٹ-اینٹری بیورو سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وائرس پر قابو پانے کے سلسلے میں 30 جنوری تک چینی شہریوں کے لیے پاسپورٹ اور ویزا سروسز معطل رہیں گی۔

ہیلتھ کمیشن کے عہدیداران نے کہا کہ ووہان سمیت صوبے ہوبے میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد رات گئے 56 سے 76 تک پہنچ گئی تھی جبکہ دیگر 4 ہلاکتیں چین کے دیگر علاقوں میں ہوئیں۔

علاوہ ازیں دنیا کے 10 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے تاہم کہیں بھی اس حوالے سے ہلاکتیں رپورٹ نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس پھیلنے کی طاقت مزید بڑھ گئی، چینی وزیر صحت

چین میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 30 فیصد کے اضافے کے بعد 2 ہزار 7 سو 44 تک پہنچ گئیں جس میں سے نصف کے قریب صوبہ ہوبے میں ہیں۔

چینی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ ووہان کا دورہ کرنے والے پہلے سینئر ترین رہنما ہیں، جہاں انہوں نے وبا پر قابو پانے سے متعلق کوششوں کا جائزہ لیا، مریضوں اور طبی عملے سے بات چیت کی۔

گزشتہ روز چینی کابینہ نے کہا تھا کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کے تحت نئے قمری سال کی چھٹیوں میں 2 فروری تک 3 روز کی توسیع کردیں گے۔

خیال رہے کہ نئے قمری سال کے آغاز پر عموماً لاکھوں چینی شہری سفر کرتے ہیں لیکن اکثر افراد کو وائرس کی وجہ سے عائد سفری پابندیوں کے باعث اپنے ارادے منسوخ کرنے پڑے۔

ووہان اس وقت ورچوئل لاک ڈاؤن کا شکار ہے جبکہ چین کے دیگر شہروں میں بھی نقل و حرکت پر شدید پابندیاں عائد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی

گزشتہ روز ووہان کے میئر نے کہا تھا کہ 50 لاکھ افراد پابندیوں کے باوجود چھٹیوں اور دیگر وجوہات کے باعث شہر سے جاچکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن وزیر ما شیاﺅوی نے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریض اس سے آگاہ ہوئے بغیر کسی بھی دوسرے فرد میں وائرس کی منتقلی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس کی علامات ایک سے 14 دن تک سامنے نہیں آتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے وائرس کو پھیلنے سے روکنا مشکل ہورہا ہے جبکہ اس کے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے کی صلاحیت مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

کورونا وائرس کی علامات میں ناک بند ہونا، سردرد، کھانسی، گلے کی سوجن اور بخار شامل ہیں اور چین کے مرکزی وزیر صحت کے مطابق 'اس وبا کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہے، میں خوفزدہ ہوں کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے'۔

چین کی جانب سے مارکیٹوں، ریسٹورنٹس اور ای کامرس پلیٹ فارمز پر جانوروں کی فروخت پر بھی ملک بھر میں پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے، کیونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ یہ وائرس گزشتہ سال کے اختتام کے قریب ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا جہاں غیر قانونی طور پر جانوروں کو فروخت کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ چین کے مختلف شہروں بشمول بیجنگ اور شنگھائی تک پھیل گیا۔

مزید پڑھیں: مہلک وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، چینی صدر

یہ وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں رواں ماہ پھیلنا شروع ہوا تھا، چینی حکام کی جانب سے ووہان اور اطراف کے شہروں کو بند کردیا گیا تھا مگر یہ وائرس کم از کم 12 دیگر ممالک تھائی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ویت نام، سنگاپور، نیپال، فرانس، آسٹریلیا، ملائیشیا، کینیڈا اور امریکا تک پھیل چکا ہے۔

خیال رہے کہ ووہان کورونا وائرس کورونا وائرس کی ایک قسم ہے اور ابھی ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں جو اس کی جسم میں موجودگی کی تصدیق کرسکے اور کورونا وائرسز کے موجودہ ٹیسٹ سے اسے پکڑا نہیں جاسکتا۔

’کورونا‘ وائرس کے حوالے سے چینی حکام نے گزشتہ ہفتے ہی تصدیق کی تھی کہ مذکورہ وائرس ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے اور یہ وائرس ہاتھ ملانے سمیت سانس کے ذریعے بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

وائرس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چین کے کئی شہروں میں عوامی مقامات اور سینما گھروں سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ شہریوں کو سخت تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔