بچے کی پیدائش کے موقع پر والدین کو چھٹی کا بل سینیٹ سے منظور

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2020

ای میل

سینیٹ میں علاقائی سلامتی سمیت دیگر معاملات پر بحث کی گئی—فائل/فوٹو:ڈان
سینیٹ میں علاقائی سلامتی سمیت دیگر معاملات پر بحث کی گئی—فائل/فوٹو:ڈان

سینیٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر قرۃالعین مری کی جانب سے پیش کیا گیا مادریت اور پدریت بل 2018 کثرت رائے سے منظور کرلیا جبکہ اپوزیشن نے نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی مخالفت کردی۔

سینیٹ سے منظور ہونے والے بل میں کہا گیا ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے وقت تنخواہ کے ساتھ والدہ کو 6 ماہ، والد کو ایک ماہ کی چھٹی دی جائے گی، بچے کی والدہ کو تین ماہ اور والد کو ایک ماہ کی بغیر تنخواہ کے اضافی چھٹی بھی دی جائے۔


بل کے اہم نکات

  • پہلے بچے کی پیدائس پر ماں کو 180 دن (6ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی
  • دوسرے بچے کی پیدائش پر ماں کو 120 دن (4 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی
  • تیسرے بچے کی پیدائش پر ماں کو 90 دن (3 ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی

بچے کے والد کو بھی تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملے گی

  • بچے کی پیدائش کے موقع پر 30 دن (ایک ماہ) کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی، مدت ملازمت میں 3 مرتبہ

بل میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بل کا اطلاق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں سرکاری و غیرسرکاری دونوں طرح کے اداروں پر ہوگا اور اگر ملازمت فراہم کرنے والا اپنے ملازمین کو چھٹی نہیں دے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سینیٹ سے منظور شدہ بل اب قومی اسمبلی کو بھیج دیا جائے گا جہاں اس پر مزید بحث ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:’ریپ‘ کرنے والے سے متاثرہ خاتون کی شادی کے مجوزہ بل پر ترکی میں مظاہرے

سینیٹر قرۃالعین مری نے کہا کہ سرکاری اداروں میں خواتین کو بچے کی پیدائش کے موقع پر چھٹی نہیں دی جاتی، سینیٹ میں بھی خواتین کو کہہ دیا جاتا ہے کہ اتنے بچے پیدا نہ کریں۔

حکومتی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بل ایک سال سے کمیٹی میں تھا، وفاقی وزیر کیوں کمیٹی میں نہیں آئے۔

وفاقی وزیر حماد اظہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے قانون میں 90 دن کے لیے چھٹی دی جاتی ہے، پٹرنیٹی لیو (پدریت چھٹی) کو کم کرکے 15 دن کیا جائے کیونکہ دنیا کے اکثر ممالک میں والد کو بچے کی پیدائش پر اتنی طویل چھٹی کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین (مرد) کو پہلے ہی 48 دن اور خواتین 3 ماہ کی چھٹی پر جاتی ہیں۔

نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی مخالفت

سینیٹ میں نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام پر بحث ہوئی جہاں اپوزیشن نے اس اقدام کی مخالفت کردی۔

سینیٹر میر کبیر کا کہنا تھا کہ ہمارے ساحلی علاقوں سے 35 لاکھ کی زمین لے کر 25 لاکھ ڈالرز میں فروخت کی جا رہی ہے لیکن بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی بہت سی قوم پرست جماعتوں نے مخالفت کی ہے۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اٹھاوریں ترمیم کو دیکھنا چاہیے ، جہاں مسائل ہیں وہ حل ہونے چاہئیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا تھا کہ جتنا صوبوں پر اعتماد کریں گے اسی کے مطابق نتائج بھی بہتر آئیں گے جبکہ صوبوں کو فتح کرنے کی سوچ پسماندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں کی ترقی کے لیے صوبوں میں ادارے ہیں لہٰذا اس طرح کے ادارے قائم کرکے نئے مسائل پیدا کرنا دانش مندی نہیں، اسلام آباد کے لوگ قابل احترام ہیں لیکن سندھ اور بلوچستان کے لوگ ان سے زیادہ اپنی ترقی کے لیے فکر مند ہیں۔

مزید پڑھیں:قومی ترقیاتی کونسل کا بلوچستان کی ترقی، سیکیورٹی پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ

سراج الحق نے کہا کہ نئے ادارے قائم کرکے صوبوں کے سروں پر نہ بیٹھا جائے، سینیٹر مولانا فیض کا کہنا تھا کہ ہم سے ہماری زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔

پی پی پی سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ جو اتھارٹی صوبوں میں بے چینی پیدا کرے وہ اچھا قدم نہیں اور یہ کہنا کہ صوبے اٹھارویں ترمیم کے لیے تیار نہیں تھے جو وفاق کو نقصان دینے کی سوچ ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے اس قدم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کے لیے تو ترقیاتی اتھارٹی بنا سکتی ہے لیکن صوبوں میں نہیں، سندھ اور بلوچستان پہلے ہی کوسٹل اتھارٹی بنا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق کو اتھارٹی بنانی ہی تھی تو صوبوں کے ساتھ مشاورت کرلینا چاہیے تھا، صوبے اس اتھارٹی کے مخالف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرکز غلط انداز سے صوبوں میں اپنی رٹ قائم کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے ایک تحریری جواب اور میں کہا ہے کہ اٹھاوریں ترمیم کے تحت قانون سازی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ساحلی علاقوں کے لیے ماسٹر پلان تیار کر رہے ہیں، صوبے اس حوالے سے پیش رفت کریں جس کے لیے وفاق مدد کرے گا۔

صحافیوں کا واک آؤٹ

سینیٹ اجلاس کے دوران صحافیوں نے تنخواہ کی عدم ادائیگی کے باعث ایک کیمرامین کی وفات، میڈیا اداروں میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تنخواہوں کو اشتہارات سےمنسلک کرنے پر عمل درآمد نہ ہونے پر سینیٹ سے گیلری سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔

سینیٹر جاوید عباسی نے اس موقع پر کہا کہ صحافی وہ لوگ ہیں جو ہر وقت ہماری آواز عوام تک پہنچاتے ہیں، 8 اور9 ماہ سے صحافیوں کو تنخواہ نہیں دی جا رہی جبکہ ان لوگوں کے پاس کوئی اور کاروبار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کی غیر منصفانہ میڈیا پالیسی کےخلاف صحافتی تنظیموں کا احتجاج

انہوں نے کہا کہ ورکنگ جرنلسٹس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، وزیراعظم کہتے ہیں دو لاکھ میں گزارا نہیں ہوتا تو ایک کیمرامین کا گزارا کیسے ہوگا، صورت حال پر قابو پانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے کہا کہ معاملے کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی ان کے ساتھ باہر جا کر بیٹھنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں متعلقہ وزیر کو بھی بلایا جائے۔

وفاقی وزیر علی محمد خان نے کہا کہ حکومت نے مالکان کو تمام ادائیگی کردی ہے، حکومت کو وہ پیسے ملازمین تک جانے کو یقینی بنانا ہوگا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ متعلقہ وزیر کہیں بیٹھ کر معاملہ حل کریں۔

’وزیراعظم نے افغانستان کو کشمیر پر ترجیح دی’

سینیٹ میں علاقائی سلامتی اور صورت حال پر بحث ہوئی جہاں پی پی پی سینیٹر بہرمند تنگی کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا جس پر اپوزیشن کی سیاسی قیادت نے حکومت کو کہا تھا کہ ہمیں اعتماد میں لیا جائے لیکن حکومت نے کشیدگی میں کمی کے لیے اقدمات نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھارت، پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہےتو پاکستان نے بھارت کو شکست دینے کے لیے اپنے کتنے سفارتی وفد بھجوائے۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ صرف امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے افغانستان میں امن نہیں ہے جب تک سب شراکت داروں کو نہ بٹھایا جائے، حکومت افغانستان کے تمام شراکت داروں کو بٹھائے۔

مزید پڑھیں:امن و استحکام کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی، وزیر اعظم

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو راضی کرنے کے لیے افغانستان کو کشمیر پر ترجیح دی جبکہ ہماری ترجیح کشمیر ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی کی غلط پالیسی کی وجہ سے پورا بھارت سراپا احتجاج ہے لیکن ہم نے صورت حال کو درست انداز سے استعمال نہیں کیا۔

علاقائی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا، طالبان، سعودی عرب اور ایران میں دوستی کرانا اچھی بات ہے لیکن ترجیح ہمارے اپنے مسائل ہونے چاہیئں۔

حکمراں جماعت کے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بھارت کی غلط پالیسی کی وجہ سے بھارت اب گاندھی اور نہرو کا بھارت نہیں رہا جہاں مودی کی پالیسی ہٹلر کی پالیسی ہے لیکن بھارت اپنے سیاہ باب کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عراق کے بارے میں حکومت نے ایڈوائزری جاری کی ہے، عراق میں حالات کشیدہ ہیں، ہم خطے کے سارے ممالک کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سر زمین کسی ملک کے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہوگی اور پاکستان کسی کے مفاد کی جنگ نہیں لڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سر زمین دوستیاں بڑھانے کے لیے استعمال ہوگی۔


تصحیح: اس سے قبل خبر میں سینیٹ میں مادریت اور پدریت بل 2018 پر بحث کے دوران حماد اظہر کے حوالے سے یہ تحریر گیا تھا کہ 'دنیا میں کہیں بھی والد کو اتنی طویل چھٹی نہیں دی جاتی' ہے، تاہم اس میں 'معمولی سے غلطی' تھی جسے درست کر دیا گیا ہے۔