ہسپتال میں مریضوں کے بصارت سے محروم ہونے کی وجہ دوا نہیں تھی، ڈریپ

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2020

ای میل

اس سے پہلے ہسپتال میں انفیکشن کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا تھا —فائل فوٹو: الشفا ہسپتال ویب سائٹ
اس سے پہلے ہسپتال میں انفیکشن کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا تھا —فائل فوٹو: الشفا ہسپتال ویب سائٹ

اسلام آباد: الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال میں علاج کے دوران مبینہ طور پر آنکھوں کے قطرے (آئی ڈراپس) کے باعث اپنی بینائی کھونے والے زیادہ تر مریضوں کی حالت اب بہتر ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی تحقیقات کے مطابق واقعے کی وجہ دوا نہیں بلکہ دیگر وجوہات تھیں، جس میں انسانی غلطی یا ہسپتال میں انفیکشن ہونا شامل ہیں۔

آنکھوں کے ہسپتال کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس سے پہلے ہسپتال میں انفیکشن کا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور وہ بہترین مشینری استعمال کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تمام آلات اسٹرلائزڈ ہوں۔

علاوہ ازیں ہسپتال، مذکورہ آئی ڈراپس پر لیبارٹری رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ڈراپس سے کئی مریض 'بصارت' سے محروم، معاملے کی تحقیقات کا حکم

واضح رہے کہ تقریباً 3 ہفتے قبل گلوکوما کا آپریشن کروانے والے مریضوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بصارت سے محروم ہوگئے، مریضوں نے کہا تھا کہ تقریباً 80 لوگ متاثر ہوئے جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 9 کیسز ہیں جس میں مریضوں کو خطرناک انفیکشن ہوا۔

8 جنوری کو گلوکوما کا آپریشن کروانے کے بعد بصارت سے محروم ہونے والے 53 سالہ منظور احمد کیانی، جن کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور وہ بطور سب انسپکٹر ملازم ہیں، انہوں نے ڈان کو یہ بتایا کہ ہسپتال نے انہیں بلایا تھا لیکن انہیں اپنے کیس میں کوئی بہتری محسوس نہیں ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ 'جمعرات کو میں خود سے ٹیسٹ کروانے کے لیے فوجی ہسپتال گیا، جہاں ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے شدید انفیکشن ہے اور مجھے دوا دے کر مشورہ دیا کہ میں 2 ہفتوں بعد دوبارہ آؤں'۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا تھا جب سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا تھا کہ ان کے حلقے سے ایک فرد بصارت سے محروم ہوگیا۔

ادھر ہسپتال کے میڈیا کوآرڈینیٹر مرزا ریاض بیگ نے ڈان کو بتایا کہ زیادہ تر متاثرہ مریض ٹھیک ہوگئے ہیں اور صرف 2 مریض ایسے ہیں جن کی اب تک بصارت ٹھیک نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے انہیں ہسپتال میں نگہداشت میں رکھا ہوا ہے اور ان کا علاج کیا جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ دونوں مریض جلد ٹھیک ہوجائیں گے'۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے آئی ڈراپس کا مکمل بیچ لیبارٹری بھیج دیا تھا تاکہ اگر اس میں کوئی خرابی ہے تو معلوم ہو، تاہم ہم ابھی لیب رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ یہ معاملہ بصارت سے متعلق ہے لہٰذا اس کی اچھے طریقے سے تفتیش کی جارہی ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں انفیکشن پوری دنیا میں ہوتا ہے لیکن ہسپتال میں ایک اسٹیٹ آف آرٹ آپریشن اور سامان ہے جبکہ آلات کی دیکھ بھال کے لیے انہیں اسٹرلائز کیا جاتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اس سے قبل ہسپتال کو کسی ایسے معاملے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

دوسری جانب نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) رپورٹ کے مطابق صحت کی دیکھ بھال سے متعلق انفیکشن صحت کا ایک عام مسئلہ ہے جو زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر جراثیم جو صحت کی دیکھ بھال میں سنگین انفیکشن کا باعث بنتے ہیں وہ لوگوں کے عمل سے پھیلتے ہیں اور ہر فرد علاج کے دوران انفیکشن کے خطرات سے دوچار ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بینائی کی کمزوری کی 6 علامات

مرزا ریاض بیگ کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں یومیہ تقریباً 250 آپریشنز کرتا ہے جس میں سے صرف 9 مریضوں کو آئی ڈراپس کے بعد الرجی یا سنگین ری ایکشن ہوا۔

علاوہ ازیں ڈریپ کے سی ای او ڈاکٹر عاصم رؤف کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کے عہدیداروں نے ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریگیڈیئر(ر) رضوان اللہ سے ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیقات کے مطابق انفیکشن دوا سے متعلق نہیں تھا، مزید برآں میں نے کبھی یہ نہیں سنا کہ آئی ڈراپس سے بینائی چلی جائے، عام طور پر ڈراپس سے الرجی ہوتی ہے اور وہ کچھ دن میں ٹھیک ہوجاتی ہے، (تاہم) آئی ڈراپس میں خرابی کی صورت میں بڑی تعداد میں مریض بصارت سے محروم ہوسکتے ہیں'۔