کورونا وائرس سے 213 اموات، عالمی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا گیا

اپ ڈیٹ جنوری 31 2020

ای میل

ووہان کو مکمل طور پر بند کیے جانے کے باعث ہزاروں غیر ملکی بھی وہاں پھنس گئے —تصویر: اے ایف پی
ووہان کو مکمل طور پر بند کیے جانے کے باعث ہزاروں غیر ملکی بھی وہاں پھنس گئے —تصویر: اے ایف پی
حالیہ ہفتوں میں جس طرح وائرس پھیلا ہے اس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی—تصویر: اے ایف پی
حالیہ ہفتوں میں جس طرح وائرس پھیلا ہے اس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی—تصویر: اے ایف پی

چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 213 ہوگئی جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھانوم گیبریسس نے یہ اعلان مذکورہ وائرس کے 18 ممالک تک پھیل جانے پر عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی کمیٹی اجلاس کے بعد کیا جو آزاد ماہرین کے پینل پر مشتمل ہے۔

جنیوا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں جس طرح وائرس پھیلا ہے اس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی، لہٰذا اس پر ردِ عمل بھی مثالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں 4 پاکستانی طلبہ میں کورونا وائرس کی تصدیق

ان کا کہنا تھا کہ ’میں واضح کردوں کہ اس اعلان کا مقصد چین پر عدم اعتماد ظاہر کرنا نہیں ہے اور چین کی جانب اور چین سے سفر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سب سے زیادہ تشویش ممکنہ طور پر وائرس کے ایسے ممالک میں پھیلنے کے حوالے سے ہے جن کے نظام صحت کمزور ہیں‘۔

عالمی ادارہ صحت کی کمیٹی کی سربراہی فرانس کے ڈیڈیر حسین کے پاس ہے جبکہ اس میں 16 آزاد ماہرین بھی شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے 2 مرتبہ ماہرین نے ہنگامی صورتحال کا اعلان نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ انہوں نے چین سے مزید معلومات اور دیگر ممالک میں وائرس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کے مصدقہ شواہد مانگے تھے تا کہ عالمی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا معیار جانچنا جاسکے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں کی اہم ترین پیشرفت

مذکورہ وائرس کے پھیلاؤ کو ہنگامی صورتحال قرار دینے کے ساتھ تمام ممالک کو سرحد پار اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور کم کرنے کی تجاویز دے دی گئی ہیں جبکہ تجارتی اور سفری معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کیا گیا ہے۔

اس میں دنیا بھر کے صحت حکام کے لیے عارضی تجاویز شامل ہیں جس میں نگرانی، تیاری اور روک تھام کے اقدامات کو مزید بہتر بنانے کا کہا گیا۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت ایسا قانونی ادارہ نہیں جو ممالک پر پابندیاں عائد کرسکے تاہم یہ کسی ہنگامی صورتحال میں ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی سفری اور تجارتی پابندیوں کے حوالے سے سائنسی جواز فراہم کرنے کا کہہ سکتا ہے۔

ممالک کے اقدامات

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے انتباہ کو مزید سخت کردیا اور وائرس کے 20 ممالک تک پھیل جانے کی وجہ سے شہریوں کو چین کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکا میں وائرس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کا پہلا کیس سامنے آگیا جس میں ایک شخص کو اپنی بیوی سے وائرس منتقل ہوا جس نے ووہان کا سفر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فوڈ مارکیٹ کا ایک جانور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنا، تحقیق

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے چین پر سفری اور تجارتی پابندیوں کو غیر ضروری قرار دیا تھا لیکن دنیا بھر کے حکام اور تاجر ان معاملات کا فیصلہ خود کررہے ہیں۔

جرمنی، برطانیہ اور دیگر ممالک نے چین کے سفر کے حوالے سے انتباہ جاری کیے ہیں جبکہ بڑی ایئر لائنز نے یا تو چین سے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں یا ان میں کمی کردی ہے۔

دوسری جانب روس نے بھی چین کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد بند کردی جبکہ کچھ ممالک نے وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان سے آنے والوں کے داخل ہونے پر پابندی لگادی۔

بڑھتی ہوئی تشویشن کے باعث اطالوی بندرگاہ پر پہنچنے والی ایک کروز شپ کے 6 ہزار سیاحوں کو عارضی طور پر اس وقت لاک ڈاؤن میں محصور کردیا گیا جب 2 چینی شہریوں کی طبیعت ناساز ہوئی تاہم ان کے ٹیسٹ میں وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی۔

اموات کی تعداد میں اضافہ

چین نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں جس میں 5 کروڑ سے زائد افراد کو بھرپور طریقے سے قرنطینہ میں رکھنا شامل ہے۔

جمعے کے روز حکومت نے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 43 ہلاکتیں ہونے کی تصدیق کی اور گزشتہ 10 روز سے اموات میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ایئر لائنز نے چین سے اپنی پروازیں معطل کردیں

چین کے قومی کمیشن برائے صحت نے جمعے کو ایک ہزار 983 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ گئی۔

اس کے علاوہ سانس کے حوالے سے تکلیف کی ممکنہ علامات پر ایک لاکھ 2 ہزار افراد طبی طور پر زیر نگرانی ہیں۔

متاثرہ علاقے سے انخلا جاری

گزشتہ ہفتے ووہان کو مکمل طور پر بند کیے جانے کے باعث ہزاروں غیر ملکی بھی وہاں پھنس گئے تھے۔

فرانس نے جمعے کے روز اپنے 200 شہریوں کو ووہان سے نکالا جنہیں گھر جانے سے قبل 2 ہفتوں تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ قرنطینہ ایسی صورتحال ہے جس میں کسی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انسانوں اور اشیا کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔

جس کے بعد برطانیہ نے بھی پیروی کرتے ہوئے اپنے اور غیر ملکی 110 شہریوں کو ووہان سے نکالا جبکہ جاپان اور امریکا بدھ کے روز اپنے شہریوں کا انخلا کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے بارے میں وہ انکشافات اور تفصیلات جو اب تک ہم جان چکے ہیں

ٹوکیو نے بتایا کہ انخلا کے پہلے مرحلے میں واپس جاپان لے جائے گئے شہریوں میں 3 افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی پائی گئی۔

کورونا وائرس کیا ہے؟

کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز(وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔ عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ڈرگ دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔

تاہم چین میں پھیلنے والا وائرس نوول کورونا وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔