بوٹ تنازع:عدالت کی پولیس کو فیصل واڈا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے ہدایت

اپ ڈیٹ فروری 01 2020

ای میل

فیصل واڈا نے 14 جنوری کو پروگرام میں شرکت کی تھی—فائل/فوٹو:اسکرین شاٹ اے آر وائی یوٹیوب
فیصل واڈا نے 14 جنوری کو پروگرام میں شرکت کی تھی—فائل/فوٹو:اسکرین شاٹ اے آر وائی یوٹیوب

کراچی کی سیشن عدالت نے میٹھادر تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو کریمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 154 کے تحت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما کا بیان ریکارڈ کرنے اور قابل دست اندازی جرم کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی فیصل واڈا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

پی پی پی رہنما ایڈووکیٹ قادر خان مندوخیل نے سیشن عدالت سے استدعا کی تھ کہ فیصل واڈا نے پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی اور مسلح افواج کے تقدس کو پامال کیا، اس لیے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پولیس کو احکامات جاری کیے جائیں۔

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی غلام مرتضیٰ بلوچ نے سماعت کے بعد سیکشن 22 'اے' کے تحت قادر خان مندوخیل کی درخواست کو نمٹا دیا۔

خیال رہے کہ پی پی پی رہنما نے میٹھادر تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور کہا تھا کہ پولیس پی ٹی آئی رہنما کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر غور نہیں کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:ٹی وی پروگرام میں 'فوجی بوٹ' لانے پر فیصل واڈا پر تنقید

عدالت کے حکم پر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) جنوبی نے اپنی رپورٹ جمع کرائی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ درخواست گزار نے مقدمے کے اندراج کے لیے مجھ سے رابطہ نہیں کیا اور عدالت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ قادر خان مندوخیل کو متعلقہ تھانے سے رجوع کرنے ہدایت کرے تاکہ ان کے خدشات کو دور کیا جائے۔

قادر خان مندوخیل نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ وفاقی وزیر فیصل واڈا نے 14 جنوری کو نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی۔

ٹاک شو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ فیصل واڈا نے کیمرے کے سامنے بوٹ کو ٹیبل پر رکھا اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل کی حمایت پر اپوزیشن کی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

درخواست گزار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما نے آرمی چیف کی توسیع کے حق میں ووٹ دینے پر پی پی پی پر الزام عائد کیا اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی آرمی چیف اس سیاسی سرگرمی کے پیچھے تھے اور اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2020 کی حمایت دباؤ کے زیر اثر کی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم نے فیصل واڈا کی ٹاک شوز میں شرکت پر پابندی عائد کردی

قادر خان مندوخیل نے عدالت میں دلائل دیتےہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما نے مسلح افواج کے تقدس کو پامال کیا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی تھی جس پر ان کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے میٹھادر پولیس سے رجوع کیا لیکن پولیس کے عہدیداران نے درخواست سننے سے انکار کردیا۔

انہوں نے فیصل واڈا کے پاس امریکی شہریت ہونے کا دعویٰ کیا اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پی پی پی رہنما نے موقف اپنایا کہ فیصل واڈا رولز 3 (ون)، 4، 5، 3 اور پیمرا ایکٹ کی شق 17 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور وزیراعظم نے خود ان پر 2 ہفتوں کے لیے میڈیا میں آکر بیان دینے پر پابندی عائد کردی جو بذات خود واڈا کے جرم کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

قادر خان مندوخیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ واڈا کے خلاف تعزیرات پاکستان کے سیکشن 121 اے اور 140 کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو حکم دے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو فیصل واڈا سے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کا قلمدان بھی واپس لینے اور انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے ہٹانے کے احکامات دینے کی بھی درخواست کی۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی فیصل واڈا 14 جنوری کو نجی ٹی وی اے آروائی کے پروگرام میں 'فوجی بوٹ' ساتھ لے کر آئے تھے اور 'بوٹ' کو میز پر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ 'مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے'۔

مزید پڑھیں:فیصل واڈا کا معاملہ، قائمہ کمیٹی پیمرا پر برہم

انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ ہے آج کی جمہوری مسلم لیگ، لیٹ کر چوم کر بوٹ کو عزت دو'۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر فیصل واڈا پر کسی بھی ٹاک شو پر 2 ہفتوں کے لیے شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔

پیمرا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے غیراخلاقی حرکت اور ریاستی ادارے کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش پر پروگرام اور اس کے میزبان پر 60 دن کی پابندی عائد کردی تھی جو بعد ازاں واپس لے لی گئی۔