پاکستان میں مشتبہ مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی، معاون خصوصی

اپ ڈیٹ 03 فروری 2020

ای میل

نوول کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس کی آمد پر تمام 7 مشتبہ مریضوں میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی — فائل فوٹو:اے ایف پی
نوول کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس کی آمد پر تمام 7 مشتبہ مریضوں میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی — فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: نوول کورونا وائرس (این سی وی) کی ٹیسٹنگ کٹس کی آمد اور وائرس کی تشخیص کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ میں ملک میں موجود تمام 7 مشتبہ مریضوں میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈان کو بتایا کہ متعدد ذرائع سے ہزاروں ٹیسٹنگ کٹس کا انتظام کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کٹس حاصل کرتے ہی ہم نے تمام 7 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا جنہیں کراچی، ملتان اور دیگر شہروں کے ہسپتالوں میں آئی سولیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا، خوش قسمتی سے تمام ساتوں مریضوں کے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے جس سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں اب تک یہ وائرس نہیں آسکا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ٹیسٹنگ کٹس کو جہاں ضرورت ہوگی فراہم کیا جائے گا، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اب اس وائرس کی تشخیص میں خود کفیل ہوگیا ہے'۔

قبل ازیں نمونوں کو بیرون ملک بھیجا گیا تھا کہ مشتبہ مریضوں کی تصدیق کی جاسکے کہ ان میں این سی وی ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں چین سے باہر فلپائن میں پہلی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے جبکہ اس وائرس سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرچکی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث چین سے باہر پہلی ہلاکت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دنیا بھر میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چین سے آنے والے شہریوں کے لیے سرحدیں بند کرنے والی حکومتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

گزشتہ برس کے اواخر میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس کے نتیجے میں اب تک 14 ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ یہ وائرس 24 ممالک تک پھیل چکا ہے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز (وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے، عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے، سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کتنا خطرناک ہے؟

کورونا وائرس کی بیشتر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ڈرگس دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔

تاہم چین میں پھیلنے والا وائرس نوول کورونا وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چین کو اس وقت دہری پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ووہان اور ہوبی گنجان ترین آبادی والے علاقے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کو کسی اور جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں بلکہ اس سے مرض اور پھیل جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔