’کورونا وائرس کی غیر مصدقہ ادویات، جڑی بوٹیوں کے استعمال سے گریز کریں‘

اپ ڈیٹ 03 فروری 2020

ای میل

2 جاپانی دوشیزائیں وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے فیس ماسک پہنے ہوئے ہیں —تصویر: اے ایف پی
2 جاپانی دوشیزائیں وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے فیس ماسک پہنے ہوئے ہیں —تصویر: اے ایف پی
چینی عوام وائرس سے بچنے کے لیے عبادت کرتے ہوئے —تصویر: اے ایف پی
چینی عوام وائرس سے بچنے کے لیے عبادت کرتے ہوئے —تصویر: اے ایف پی

واشنگٹن: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا بھر کی عوام پر زور دیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے علاج کا دعویٰ کرنے والی غیر مصدقہ ادویات اور جڑی بوٹیوں کے استعمال سے گریز کریں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وبا کے علاج کے لیے پیش کیے جانے والے متعدد طریقوں، بالخصوص انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی ہدایات میں عوام کو یاد دلایا گیا کہ ’نوول کورونا وائرس سے بچنے یا اس کے علاج کی کوئی مخصوص دوا اب تک تجویز نہیں کی جاسکی‘۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ’جو افراد nCoV-2019 سے متاثر ہیں انہیں مرض کی علامات دور کرنے اور علاج کے لیے مناسب احتیاط اختیار کرنی چاہیئیں اور جو شدید بیماری میں مبتلا ہیں انہیں ’بہتر طبی نگہداشت‘ حاصل کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس کے بارے میں وہ انکشافات اور تفصیلات جو اب تک ہم جان چکے ہیں

عوام کو وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے ڈبلیو ایچ او نے ہدایت کی کہ ’ہاتھوں اور نظام تنفس کے بنیادی حفظان صحت کو یقینی بنائیں اور اگر کسی شخص میں سانس لینے میں تکلیف کی علامات مثلاً کھانسی یا چھینکیں پائی جائیں تو جتنا ممکن ہو اس سے قریبی رابطے سے گریز اور محفوظ خوراک لی جائے'۔

ہدایت نامے میں عوام کو یہ بھی یاد دہانی کروائی گئی کہ nCoV-2019 کے علاج کے لیے تجویز کیے جانے والے مندرجہ ذیل اقدامات آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر نہیں اور نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

ان اقدامات میں وٹامن سی لینا، تمباکو نوشی، نباتاتی چائے پینا، زیادہ سے زیادہ تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعدد ماسک پہننا اور خود سے مختلف ادویات لینا مثلاً اینٹی بائیوٹکس وغیرہ۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کس عمر کے افراد کو زیادہ متاثر کرسکتا ہے؟

ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کو بخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کا سامنا ہے تو فوراً طبی دیکھ بھال حاصل کریں تاکہ مزید خطرناک انفیکشن کے خطرے کو کم کیا جاسکے اور علاج کرنے والوں کو اپنے حالیہ سفر کے بارے میں بھی ضرور بتائیں‘۔

عالمی ادارہ صحت نے اتوار کے روز جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی نئے ملک میں وائرس کا کیس رپورٹ نہیں ہوا اور 2 ہزار 604 کیسز کے ساتھ اب تک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 14 ہزار 557 تک پہنچ چکی ہے۔

ان 14 ہزار 557 میں سے 14 ہزار 411 کیس چین میں پائے گئے جبکہ وائرس سے متاثرہ 315 افراد کی تشخیص دنیا کے دیگر ممالک میں ہوئی، عالمی ادارے نے مجموعی طور پر 304 اموات کی بھی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان شہر کی ایک تصویر کورونا وائرس بحران کی عکاس

اس کے علاوہ اتوار ہی کے روز عالمی ادارہ صحت نے خطرے کے عالمی جائزے پر نظر ثانی کرتے ہوئے چین کو ’انتہائی خطرناک‘ کی سطح پر برقرار رکھا جبکہ عالمی خطرے کو بھی بلند رکھا گیا ہے۔

اپنے بیان میں ڈبلیو ایچ او نے ’بے انتہا معلومات‘ کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ جس میں سے کچھ درست ہیں اور کچھ درست نہیں ’جس کی وجہ سے ضرورت پڑنے پر عوام کے لیے قابل بھروسہ ذرائع سے معتبر رہنمائی حاصل کرنا مشکل بن گیا ہے‘۔

نوول کورونا وائرس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: تھائی لینڈ میں ڈرگ کاک ٹیل کے ذریعے کورونا وائرس کا ‘کامیاب علاج'

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔