مالی خسارے کی وجہ سے حکومت کو آئی ایم ایف کی 'سخت نظر ثانی' کا سامنا

اپ ڈیٹ 06 فروری 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے اخراجات کم کرنے باوجود ملک کا مالی خسارہ جی ڈی پی سے 2.3 فیصد بڑھ گیا ہے — فائل فوٹو:رائٹرز
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے اخراجات کم کرنے باوجود ملک کا مالی خسارہ جی ڈی پی سے 2.3 فیصد بڑھ گیا ہے — فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: سال 20-2019 کی پہلی ششماہی میں ملک کا مالی خسارہ حکومت کے اخراجات پر سخت کنٹرول کے باوجود جی ڈی پی کے 2.3 فیصد سے تجاوز کرگیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی حکام کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کے دوسرے سہ ماہی کے 'انتہائی سخت' جائزے کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ جولائی سے دسمبر 2019 تک کا مالی خسارہ جی ڈی پی کا 2.3 فیصد یا 995 ارب روپے رہا جو پہلی سہہ ماہی سے 0.6 فیصد زیادہ ہے جس کی وجہ اسی مدت میں بڑے پیمانے پر 2 کھرب 90 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال رہا۔

وفاقی حکومت نے جولائی سے دسمبر میں اخراجات ایک کھرب 83 ارب روپے تک محدود رکھے جو بجٹ میں مختص کیے گئے 4 کھرب 40 ارب روپے کا 42 فیصد ہیں۔

مزید پڑھیں: گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کا امکان

سینئر حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ 'عوامی اخراجات پر پہلے 6 ماہ میں کوئی ضمنی گرانٹ جاری نہیں کی گئی اور حکومت سادگی کے وعدے پر عمل پیرا ہے'۔

اس ہی عرصے کے دوران 19-2018 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 2.7 فیصد یا ایک کھرب 3 ارب روپے رہا تھا تاہم سالانہ خسارہ بجٹ میں مختص کیے گئے 4.9 فیصد کے مقابلے میں 8.9 فیصد رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آئی ایم ایف نے مالی سال کے پہلی ششماہی میں 3.2 فیصد کے خسارے کا تخمینہ لگایا تھا تاہم خسارہ تقریباً وہاں تک پہنچ گیا ہے اور خلا صرف 34 ارب روپے کی باقی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بنیادی توازن کے معیار پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم اس سے وفد کو متاثر نہیں کیا جاسکا، 'آئی ایم کا وفد سمجھتا ہے کہ یہ مستحکم ہے نہ ہی مطلوبہ ہے کیونکہ اس میں سے بیشتر پچھلے مالی سال سے رول اوورز کے ذریعے آئے تھے اور ریونیو کی ترقی میں اس سے تعاون حاصل نہیں ہے'۔

آئی ایم ایف کے وفد سے مذاکرات میں شامل حکام کا کہنا تھا کہ ٹیکس شارٹ فال 7 کھرب 50 ارب روپے سے زائد رہے گا۔

ان کے مطابق 'مزید مالی ایڈجسٹمنٹ اور اضافی ریونیو اقدامات کو ابتدائی بات چیت میں مختصر بیان کیا گیا تاہم ایسا جان بوجھ کر کیا گیا کیونکہ پالیسی کی سطح پر بحث 11 فروری (منگل کے روز) سے ہوگی اور کمزور معاشی حالات کے پیش نظر اضافی ٹیکس اقدامات کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا وفد بیل آؤٹ پیکج پر کارکردگی کا جائزہ لینے پاکستان پہنچ گیا

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ ریونیو اہداف میں مزید گہرائی تک نظر ثانی کے امکانات 10 سے 20 فیصد ہیں کیونکہ آئی ایم ایف نے پہلے ہی ٹیکس اہداف میں 55 کھرب 3 ارب روپے سے 52 کھرب 70 ارب کمی کی اجازت دے دی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ غیر محصولاتی ریونیو کو بجٹ میں مختص کیے گئے 8 کھرب 95 ارب روپے سے بڑھا کر 16 کھرب روپے تک کیا جاسکتا ہے جو ٹیلی کام ریونیو کی بحالی، اسٹیٹ بینک کے منافع کی وجہ سے پہلے ہی نظر ثانی کرکے 12 کھرب روپے کیا جاچکا تھا۔

حکام نے تجویز دی کہ پیٹرولیم میں چھوٹ اور گیس انفرا اسٹرکچر سیس کی شرح، نجکاری عمل اور مرکزی بینک کا منافع اور تیل کی قیمتوں کی وجہ سے عوامی اداروں کے منافع پر نظر ثانی کے حوالے سے مزید مدد ملے گی۔

ان کے مطابق صرف ریونیو ہی نہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی کارکردگی شیڈول کے مطابق نہیں رہی، حکام گردشی قرضے کو وعدے کے مطابق قابو نہیں کرسکے جبکہ بجلی پیدا کرنے والوں کی صلاحیت ادائیگیوں کے لیے بجلی کے ٹیرف کی دوسری سہہ ماہی کے ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کرنے میں بھی پیچھے ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پاگیا، مشیر خزانہ

آئی ایم ایف کے وفد کی نظر ثانی 13 فروری کو مکمل ہوگی جس دوران اس بات کا تعین کیا جائے گا 39 ماہ کے پروگرام کے تحت حکومت کو مارچ کے مہینے میں 45 کروڑ ڈالر ملیں گے یا نہیں، جس کی حکومت کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے کے لیے سخت ضرورت ہے۔

پاکستان کو اب تک ایک ارب 44 کروڑ ڈالر مل چکیں گے جو جولائی میں دیے گئے 99 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور دسمبر میں 15 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی شکل میں دیے گئے تھے۔

آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر کے پروگرام میں سے ملک کو 2023 تک ایک ارب 65 ارب ڈالر ملے ہیں جس میں سے وہ 4 ارب 36 کروڑ ڈالر آئی ایم ایف کو اس ہی عرصے کے دوران واپس کرے گا۔