چینی صدر کی کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی عیادت

اپ ڈیٹ 11 فروری 2020

ای میل

چینی صدر نے ماسک پہن کر ہسپتال کا دورہ کیا — فائل فوٹو: رائٹرز
چینی صدر نے ماسک پہن کر ہسپتال کا دورہ کیا — فائل فوٹو: رائٹرز

بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ 900 سے زائد افراد کی جان لینے والے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں اور صحت حکام سے ملنے ہسپتال پہنچ گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینی صدر، جنہوں نے اس وائرس کو 'شیطان' کا نام دیا ہے انہوں نے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتال کا دورہ کیا اور کہا کہ 'صورتحال اب بھی تشویش ناک ہے'۔

چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ 'وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے'۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: عالمی ادارہ صحت کی ٹیم وجوہات جاننے کیلئے چین پہنچ گئی

خیال رہے کہ چینی صدر مذکورہ وائرس کے ملک بھر میں پھیلنے کے بعد سے عوام کی آنکھوں سے اوجھل تھے۔

انہوں نے وزیر اعظم لی کیکیانگ کو اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا کہا تھا جبکہ چینی وزیراعظم نے ہی گزشتہ ماہ ووہان کا دورہ بھی کیا تھا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو شی جن پنگ نے نیلے رنگ کا ماسک اور سفید سرجیکل گاؤن پہنا تاکہ بیجنگ میں دیتان ہسپتال میں ڈاکٹروں سے ملاقات کرسکیں، مریضوں کے علاج کو دیکھ سکیں اور ووہان میں ڈاکٹروں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرسکیں۔

بعد ازاں انہوں نے بیجنگ کے وسط میں رہائش پذیر برادری سے ملاقات بھی کی تاکہ وبا کو روکنے کے لیے 'تحقیق اور تجاویز' کے اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔

ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ چینی صدر کا انفرا ریڈ تھرما میٹر سے درجہ حرارت چیک کیا گیا، بعد ازاں انہوں نے کام کرنے والی برادری سے بات چیت کی اور اپارٹمنٹ کی کھڑکیوں سے دیکھنے والے افراد کے لیے مسکرا کر ہاتھ بھی ہلایا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے حوالے سے سائنسدانوں نے اہم کامیابی حاصل کرلی

اس وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے چینی حکام کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں چین کے صوبہ ہوبے کے شہروں کو مکمل بند کرنا، ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بند کرنا، سیاحتی مقامات کو بند کرنا اور کروڑوں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تجویز دینا شامل ہے۔

ان اقدامات کے بعد شہر ویران ہوگئے تاہم گزشتہ روز معمولات زندگی بحال ہونے کے کچھ علامات سامنے آئیں۔

بیجنگ اور شنگھائی میں سڑکوں پر اب پہلے سے زیادہ ٹریفک موجود ہے اور جنوبی صوبے گوانژو کا کہنا ہے کہ وہ جلد پبلک ٹرانسپورٹ کو بحال کردیں گے۔

بیجنگ میں ایک سیلون میں کام کرنے والے شخص لی نے کئی دنوں تک اپنا کاروبار بند رکھنے کے بعد گزشتہ روز اسے واپس کھولتے ہوئے کہا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پریشان ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب گاہک آتے ہیں تو ہم پہلے ان کا درجہ حرارت دیکھتے ہیں، پھر جراثیم کش شے استعمال کرتے ہیں اور ان سے ہاتھ دھونے کا کہتے ہیں'۔

دوسری جانب کئی افراد کو گھر سے کام کرنے کے لیے کہا جارہا ہے جبکہ چند کمپنیوں نے ایک اور ہفتے کے لیے کام کو روک دیا ہے۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ کے سب وے پر مسافروں کی تعداد آدھے سے بھی کم ہوگئی ہے، اسی طرح دارالحکومت بیجنگ میں بڑے بڑے شاپنگ مالز صحرا کا منظر پیش کر رہے ہیں اور کئی بینک بھی بند ہیں۔

واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر اب تک 909 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر وائرس سے متاثرہ 40 ہزار 235 کیسز سامنے آئے ہیں۔

دیگر 24 ممالک میں کورونا کے 319 کیسز سامنے آئے جن میں ایک شخص ہلاک ہوا۔