شہدائے اے پی ایس کے لواحقین کا احسان اللہ احسان کے 'فرار' کی وضاحت کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

شہدائے اے پی ایس کے لواحقین نے کالعدم تنظیم کے سابق ترجمان کے خلاف نعرے لگائے—فوٹو:سراج الدین
شہدائے اے پی ایس کے لواحقین نے کالعدم تنظیم کے سابق ترجمان کے خلاف نعرے لگائے—فوٹو:سراج الدین

آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور کے شہید طلبہ کے لواحقین نے احتجاج کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے حراست سے مبینہ طور پر فرار ہونے کی وضاحت دی جائے۔

شہدائے اے پی ایس فورم کے صدر ایڈووکیٹ فضل خان کی قیادت میں مظاہرین پشاور پریس کلب کے باہر جمع ہوئے اور دہشت گرد گروپ کے سابق ترجمان کے خلاف نعرے بازی کی۔

انہوں نے حکومت سے احسان اللہ احسان کے مبینہ طور پر فرار ہونے کے حوالے سے اٹھنے والے سوالوں کے جواب دینے اور اس حوالے سے تفتیش شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں:سینیٹ کمیٹی نے احسان اللہ احسان کے 'فرار' ہونے پر رپورٹ طلب کرلی

ایڈووکیٹ فضل خان کا کہنا تھا کہ ‘احسان اللہ احسان کے مبینہ فرار کی خبروں سے اے پی ایس کے متاثرین میں احساس محرومی پیدا ہوا ہے اور اس معاملے پر حکومت کی خاموشی نے سوالات کھڑے کردیے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک دہشت گرد اعلیٰ درجے کی سیکیورٹی سے لیس ریڈ زون سے کیسے فرار ہو سکتا ہے، یہ ایک اچھا لطیفہ ہے’۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غم زدہ والدین انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ دینے سے انکار کردیا ہے۔

شہدا کے والدین کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی خبر سے ان کا غم اسی طرح تازہ ہوگیا ہے جب ان کے بچے دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔

پشاور پریس کلب کے باہر انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں انصاف کے نعرے درج تھے۔

احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد مظاہرین پرامن انداز میں منتشر ہوگئے۔

یاد رہے کہ ایڈووکیٹ فضل خان نے مذکورہ رپورٹس کے بعد گزشتہ ہفتے حکومت کے کئی عہدیداروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ اے پی ایس: متاثرین کی حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست

آرمی پبلک اسکول پشاور میں 16 دسمبر 2014 میں بدترین دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں 140 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی اور اس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی تھی جس کے بعد حکومت اور قومی اداروں نے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا تھا اور فوج نے آپریشن 'ضرب عضب' شروع کیا تھا۔

احسان اللہ احسان مبینہ طور پر فرار

خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی مبینہ آڈیو ٹیپ رواں ماہ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے 11 جنوری 2020 کو 'پاکستانی سیکیورٹی اتھارٹیز کی حراست سے’ فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہیں جبکہ متعدد ذرائع کا ماننا ہے کہ دہشت گروپ کے سابق ترجمان افغانستان میں ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان دہشت گردوں کو پکڑنے اور نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر فرار ہوگئے جبکہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا تھا، لیکن اس سے قبل جب کارروائیوں کو مکمل کرنے کے لیے ان سے معلومات حاصل کی گئی اور اسی طرح کے ایک آپریشن میں وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

آڈیو پیغام میں کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے مشہور لیاقت علی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈال دیے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے اپنی طرف سے وعدوں کی پاسداری کی لیکن پاکستانی عہدیداروں پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو قید میں رکھا گیا۔

خیال رہے کہ اس آڈیو کی حتمی طور پر تصدیق نہیں ہوئی تاہم انہوں نے دوران حراست سامنے آنے والی مشکلات اور فرار ہونے کے حوالے سے بتایا۔