رجب طیب اردوان پاک ترک تجارتی حجم میں 5 ارب ڈالر تک توسیع کیلئے پرعزم

اپ ڈیٹ فروری 14 2020

ای میل

پاک-ترک بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان نے خطاب کیا — فوٹو: اے پی پی
پاک-ترک بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان نے خطاب کیا — فوٹو: اے پی پی

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی حجم کو 80 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اسلام آباد میں پاک-ترک بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے آغاز میں دو روزہ دورہ پاکستان میں شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کل میری صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات ہوئی اور آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع بھی ملا۔

مزید پڑھیں: ہمارے لیے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو پاکستان کیلئے ہے، ترک صدر

انہوں نے کہا کہ ہم نئے کاروباروں کے لیے دروازے کھولنے کے لیے پرامید ہیں، ہم پاکستان اور ترکی کے سیاسی تعلقات کی طرح کاروباری تعلقات میں بھی فروغ کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے درمیان 80 کروڑ ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں، ہماری مشترکہ آبادی 30 کروڑ سے زائد ہے لہٰذا ہمیں تجارت کو اس مقام تک لے جانے کی ضرورت ہے، جس کے ہم مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے بعد اسے 5 ارب ڈالر تک توسیع دیں گے۔

ترک صدر نے کہا کہ دونوں ملک باہمی مفاد کی حامل مختلف صنعتوں میں مل کر کام کر سکتے ہیں اور ہمیں اپنے درمیان کسی بھی تجارتی دیوار کو حائل نہیں ہونے دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے سیاحوں کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے بڑھا کر 6 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچا دی ہے جس سے اس شعبے میں آمدنی ساڑھے 8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ترکی میں پاکستانی سرمائے کی حامل 158کمپنیاں کام کر رہی ہیں، ہم اس طرح کی مزید کمپنیاں دیکھنے کے خواہشمند ہیں، اس وقت ہمارے پاس ایک ماڈل موجود ہے جس کے تحت ہم چند شرائط کے تحت سرمایہ داروں کو ترک شہریت کی پیشکش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستانی بھائیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ترک معیشت پر اعتماد رکھیں، ہم دنیا کی 20 بہترین معیشتوں میں سے ایک ہیں۔

ترک صدر نے بتایا کہ ہم پر 72 فیصد عوامی قرضہ تھا جو ہم 30 فیصد تک لے آئے ہیں، معاشی جاسوسی اور خطے کی صورتحال سمیت تمام چیلنجوں کے باوجود ہم ترقی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک۔ترک صدور کی ملاقات: مسلم امہ کو درپیش چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے پر اتفاق

انہوں نے موجودہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے لیے پاکستانی حکومت اقدامات کر رہی ہے اور میرے بھائی عمران خان کی زیر قیادت اچھا ماحول فراہم کر رہی ہے، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں دفاع، ٹرانسپورٹیشن، ہاؤسنگ، صحت عامہ اور تعمیرات کے شعبوں میں عالمی شہرت یافتہ کمپنیز موجود ہیں۔

طیب اردوان نے کہا کہ ترکی کو دیگر ممالک کی طرح یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے، پاک چین اقتصادی راہداری پر چین کی کاروباری شخصیات کو بہتر طریقے سے تفصیلات بتانی چاہیے تھیں، ہم اس سلسلے میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں مقبول ترک ڈراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد ترک ڈرامے دیکھتے ہیں اور پاکستانی بھی انہیں فالو کرتے ہیں لہٰذا ہمیں فلم سازی میں بھی اشتراک کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام غیر ملکی صحت عامہ کی سہولیات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، ہمیں اسے بدلنا ہو گا، ترکی، مغربی ممالک سے کہیں زیادہ ایڈوانس ہے ہماری ہسپتال جدید طبی اور صحت عامہ کی سہولیات سے لیس ہیں۔

ان سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریب کے آغاز میں کہا کہ آج پاکستانی پارلیمنٹ سے رجب طیب اردوان کے خطاب کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ پاکستان میں اگلا انتخاب جیت سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور ترکی کے درمیان 2 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط

انہوں نے کہا کہ میں نے حکومتی اراکین کو بینچز بجاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن آج تک اپوزیشن بینچوں کے اراکین کو ڈیسک بجا کر تقریر کو سراہتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جو مجھے آج دیکھنے کا موقع ملا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے آپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے سبب پاکستان کے عوام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت ترکی سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سب کچھ کرے گی، ہم پاکستان اور ترکی کی کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم خصوصی طور پر ترک کاروباری برادری کو سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں، میں نے کئی مرتبہ بطور سیاح ترکی کا دورہ کیا اور جس طرح ترک سیاحتی صنعت نے ترقی کی تو پاکستان اس سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اب تک سیاحت پر کام نہیں کیا گیا لیکن دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی سیاحتی انڈسٹری بے پناہ صلاحیت کی حامل ہے اور حال ہی میں امریکا کے ایک صف اول کے میگزین نے پاکستان کو 2020 میں سیاحت کے لیے صف اول کا مقام قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحتی صنعت کی ترقی کے لیے ہمارے پاس انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے اور ترکی تاریخی و ساحلی مقامات کی سیاحت میں بہت ترقی کر چکا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ترکی اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ہم ترکی سے بہت سیکھ سکتے ہیں جبکہ ہمارے پاس دنیا کی دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے اور ہم اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہماری سیاست کو کس نے خراب کیا؟ غربا نے یا امیر اور پڑھے لکھوں نے؟

وزیر اعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں بھی سرمایہ کار کے بے پناہ مواقع ہیں جن پر آج تک توجہ نہیں دی گئی، ترکی کی کان کنی کی صنعت ہمارے مقابلے میں انتہائی جدید ہے لہٰذا ہم اس شعبے میں بھی ترکی کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں بھی ترکی ہمارے لیے مشعل راہ ہے کیونکہ ان کی پیداواری صلاحیت پاکستان سے بہت زیادہ ہے، ہمارے پاس دنیا کی بہترین زرخیز زمینیں ہیں لیکن ہم اپنے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے اور ہم اس سلسلے میں بھی چین سے تکنیک سیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکی جس بھی شعبے میں ہماری مدد کرنا چاہے، ہم ان کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں انہیں سہولیات فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت انتہائی کاروبار دوست ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ کاروبار دوست حکومت ثابت ہو گی اور ہم کاروباری کے لیے آسانیوں کی عالمی درجہ بندی میں ایک سال میں 28 درجے بہتری حاصل کر چکے ہیں اور کاروباری برداری کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تقریب میں پاکستان اور ترکی کے سرمایہ کار، وفاقی وزرا و مشیران بھی شریک تھے۔