اپوزیشن دو کشتیوں میں سوار ہے، مولانا فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق اپوزیشن کی زیادہ تر بڑی جماعتوں نے ان کی پارٹی کے حکومت مخالف آزادی مارچ میں ان کا ساتھ دینا کا عزم ظاہر نہیں کیا — فائل فوٹو:اے ایف پی
مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق اپوزیشن کی زیادہ تر بڑی جماعتوں نے ان کی پارٹی کے حکومت مخالف آزادی مارچ میں ان کا ساتھ دینا کا عزم ظاہر نہیں کیا — فائل فوٹو:اے ایف پی

چارسدہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی زیادہ تر بڑی جماعتوں نے ان کی پارٹی کے حکومت مخالف آزادی مارچ میں ان کا ساتھ دینا کا عزم ظاہر نہیں کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں آزادی مارچ کے لیے پُرجوش نہیں تھیں اور اس میں ان کی شرکت علامتی تھی، اس کے علاوہ انہوں نے پارلیمنٹ سے آرمی ایکٹ کو منظور کرانے میں بھی حکومت کی مدد کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 'اپوزیشن دو کشتیوں میں سوار ہے، ایک طرف اپوزیشن آزادی مارچ میں علامتی کردار ادا کرتی ہے جبکہ دوسری جانب وہ آرمی ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے میں حکومت کی بھرپور حمایت کرتی ہے'۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے استعفیٰ کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا، مولانا فضل الرحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ 'بڑی سیاسی جماعتیں ہی اس ملک کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہیں'۔

واضح رہے کہ جمعیت علما اسلام (ف) نے اکتوبر 2019 میں آزادی مارچ کا انعقاد کیا تھا جس کا مقصد وزیر اعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

ان کی جماعت نے وفاقی دارالحکومت میں مسلسل 14 روز تک دھرنا دیا تھا تاہم بعد ازاں مظاہرین بغیر اپنا ہدف حاصل کیے منتشر ہوگئے تھے۔

تاہم مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جماعت نے آزادی مارچ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سلیکٹڈ حکومت' کو امریکا اور یورپی ممالک سمیت طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے تاکہ حکومت کو استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے خبردار کیا کہ 'جے یو آئی (ف) حکومت کے خلاف اپنی جدو جہد جاری رکھے گی جبکہ آئین کے آرٹیکل 6 لگانے کی دھمکیوں سے انہیں ڈرایا نہیں جاسکتا'۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے، عمران خان

مولانا فضل الرحمٰن نے الزام لگایا کہ 'پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل احمدیوں سے معاہدہ کیا تھا اور یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں ملک میں ان کی پرانی حیثیت واپس دلائی جائے گی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جے یو آئی (ف) نے ان کی اس سازش کو ناکام بنایا اور حکومت کو توہین مذہب قانون میں تبدیلی کرنے سے روکا' ، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے اپنی نااہلی سے خود کو بے نقاب کردیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'احتجاج تمام سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے اور جے یو آئی (ف) اس ناجائز حکومت کے جانے تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی'۔

ان کے مطابق 'سلیکٹڈ حکومت' ہر 3 ماہ میں منی بجٹ کا اعلان کرتی ہے جس کی وجہ سے عوام مزید پس رہی ہے۔