کیمرون: حملے میں 14 بچوں سمیت 22 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

اپوزیشن نے ہلاکتوں کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرادیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
اپوزیشن نے ہلاکتوں کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرادیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

وسطی افریقہ کے ملک کیمرون کے شمال مغربی حصے میں گاؤں پر حملے کے دوران کم از کم 22 افراد ہلاک ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا کہ کیمرون کے گاؤں نٹمبو میں مذکورہ واقعہ پیش آیا۔

اس حوالے سے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ نٹمبو میں مرنے والے افراد میں نصف تعداد بچوں کی تھی جبکہ کچھ متاثرین کو زندہ جلادیا گیا۔

تاہم اب تک واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی لیکن ایک اپوزیشن جماعت نے اس کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرایا۔

مزید پڑھیں: افریقی ممالک میں طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 700 سے متجاوز

ادھر خطے میں 3 سال سے علیحدگی پسندوں سے لڑنے والی کیمرون کی حکومت نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی ہیومینٹیرین کوآرڈینین ایجنسی اوچا کے ایک عہدیدار جیمس نونان نے بی بی سی کو بتایا کہ مارے گئے افراد میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ 14 بچے بھی مرنے والوں میں شامل ہیں، جن میں سے 9 کی عمریں 5 سال سے کم تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے مقامی آبادی 'خوفزدہ' ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس گروپ نے بھی یہ حملہ کیا ہے اس سے دھمکی دی ہے کہ آگے مزید تشدد ہوگا، اس کے علاوہ جن لوگوں سے ہماری بات ہوئی وہ بہت صدمے میں ہیں اور وہ اس کو تسلیم نہیں کر رہے۔

علاوہ ازیں ایک بیان میں ملک کی اہم اپوزیشن جماعتوں نے حملے کے لیے 'آمرانہ حکومت' اور ملک کی سیکیورٹی فورسز کے سربراہ کو ذمہ دار قرار دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ علیحدگی تحریک کے اہم رہنما اگبور مبلا نے بھی ریاستی دفاعی فورسز کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

یہ بھی پڑھیں: افریقی ملک کی خاتون اول پر سوتن کے قتل کا الزام

تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جب اس معاملے پر فوجی حکام سے پوچھا تو انہوں نے ان الزامات کو 'جھوٹا' قرار دیا۔

واضح رہے کہ 2017 میں مظاہروں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد مسلح علیحدگی پسند گروپس نے جنم لیا۔

علیحدگی پسندوں نے ایک نئی ریاست جسے وہ امبازونیا کہتے ہیں اس کی آزادی کا اعلان کیا لیکن کیمرون کے صدر پاؤل بیا نے ان گروپس کو دہشت گرد قرار دیا۔

تاہم اس لڑائی کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم 70 ہزار لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔