ہنگو میں 8 سالہ بچی کے قتل کا الزام، 8 افراد زیر حراست

ای میل

گرفتار کیے گئے افراد سے تفتیش شروع کردی گئی—فائل فوٹو: ٹوئٹر
گرفتار کیے گئے افراد سے تفتیش شروع کردی گئی—فائل فوٹو: ٹوئٹر

خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں 8 سالہ بچی کے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کے واقعے میں پولیس نے تفتیش کے لیے 8 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق مذکورہ واقعے میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پیر کو 8 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

اس حوالے سے ڈی پی او ہنگو شاہد احمد نے ڈان نیوز کو بتایا کہ کیس میں مزید تحقیقات کے لیے پولیس نے بچی کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونے فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیجے تھے، جس کی میڈیکل رپورٹ بھی موصول ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بچیوں کے جنسی استحصال کے 2 واقعات

علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہنگو کی ایم ایس سمین جان نے بھی تصدیق کی کہ انتظامیہ نے رپورٹ کو پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

تاہم ڈی پی او نے میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ اس کے مطابق بچی کو گولی ماری گئی اور تشدد کیا گیا تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ اس کا ریپ ہوا یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے فرانزک ٹیسٹ کے لیے مزید نمونے بھیجے ہیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اب تک شبہ میں 8 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہم مذکورہ معاملے پر خاندان کے تنازع کے تناظر کو دیکھتے ہوئے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہنگو میں گزشتہ دنوں ایک 8 سالہ بچی کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا جس کی لاش تحصیل تھل کے صحرائی علاقے سے ملی تھی۔

اس حوالے سے شہید فرید خان ضلعی ہسپتال کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچی کی موت گولی لگنے اور گلا گھوٹنے کے باعث ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: 5 سالہ لڑکی کا ریپ کے بعد قتل

ادھر بچی کے دادا نے ہسپتال میں اس حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ ہفتے کی رات سے لاپتہ تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے پوری رات اسے تلاش کیا لیکن کوئی سراغ نہیں ملا، اتوار کی صبح ہمیں بتایا گیا کہ بچی کی لاش مل گئی‘۔

واقعے کے بعد بچی کے رشتہ داروں اور گاؤں کے رہائشیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ہنگو کے دوابہ بازار کی مرکزی سڑک بلاک کردی تھی۔