منیر ملک کا جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر توہین عدالت کے مقدمے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 18 فروری 2020

ای میل

صدر مملکت نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھجوایا تھا—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
صدر مملکت نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھجوایا تھا—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں میں لگائے گئے الزامات پر اٹارنی جنرل انور منصور خان آج (منگل) کو جواب دیں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے پیر کو مذکورہ بالا درخواستوں کی سماعت کی لیکن جسٹس منیب اختر ناسازی طبعیت کے باعث عدالت نہ آسکے جس کی وجہ سے سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آج ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل نہ صرف ریفرنس پر حکومتی موقف بلکہ اپنا دفاع بھی کریں گے کیوں کہ درخواست میں انہیں بھی فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کیس: سپریم کورٹ نے 2 اہم قانونی نکات اٹھادیے

اس معاملے پر پیر کو ہوئی مختصر سماعت کی خاص بات وزیر قانون فروغ نسیم اور اثاثہ جات جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کی موجودگی تھی۔

سماعت کے دوران انور منصور نے عدالت کو بتایا تھا کہ چونکہ درخواستوں کی سماعت کے دوران مختلف وکلا نے وزیر قانون کا نام لیا اس لیے وہ بھی اپنا بیان دیں گے۔

مذکورہ سماعت میں ایک درخواست گزار حسن عرفان خان نے سپریم جوڈیشل کونسل کے پروسیجر آف انکوائری 2005 پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ قواعد لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے 2005 میں بنائے گئے تھے لیکن 18 ویں ترمیم کے بعد لیگل فریم ورک آرڈر قابل عمل نہیں رہا اس لیے یہ قواعد بھی باقی نہیں رہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس عیسیٰ ریفرنس: 'کوئی شخص جج کے خلاف انکوائری کا حکم نہیں دے سکتا'

اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نمائندگی کرنے والے وکیل منیر ملک نے عدالت کی گزشتہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خلاصہ جمع کروایا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری کارروائی کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔

انہوں نے تمام متعلقہ افراد کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ اور جسٹس عیسیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نگرانی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس عیسیٰ ریفرنس: 'جج اور کوئی شخص احتساب سے بالاتر نہیں'

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر تھا۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردار کشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کیس: ’جائیدادوں کی تلاش کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ بینچ سماعت کررہا ہے۔