برطانیہ: مسجد میں معمر مؤذن پر چاقو سے حملہ، ملزم گرفتار

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

پولیس کے مطابق یہ ملزم کا اقدام قتل تھا—فوٹو: رائٹرز
پولیس کے مطابق یہ ملزم کا اقدام قتل تھا—فوٹو: رائٹرز
پولیس کے مطابق یہ ملزم کا اقدام قتل تھا—فوٹو: اے ایف پی
پولیس کے مطابق یہ ملزم کا اقدام قتل تھا—فوٹو: اے ایف پی

برطانیہ میں پولیس نے مسجد کے معمر مؤذن پر چاقو سے حملے کرنے والے مبینہ ملزم کو گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق وسطی لندن کی مسجد میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق پولیس نے بتایا کہ 'یہ ملزم کا اقدام قتل تھا'۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ '70 سال معمر شخص کو زخمی حالت میں پایا گیا تاہم ان کی جان کو خطرہ نہیں ہے'۔

ریجنٹ پارک میں مسجد کے اندر سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں دکھا جاسکتا ہے کہ ایک سفید فام شخص کو ہتھکڑیاں لگا رکھی ہیں اور دو پولیس اہلکار ساتھ کھڑے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف مرش حبیب نے ایک تصویر شیئر کی اور بتایا کہ مسجد کے مؤذن کی گردن میں وار کیا گیا۔

لندن کی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ زخمی ہونے والے معمر شخص کو ٹراما سینٹر لے جایا گیا۔

نیوز ویب سائٹ نیو اسٹیٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ بھر میں 2013 سے 2017 تک 167 مساجد کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے باوجود مساجد کی سیکیورٹی کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں مساجد پر ہونے والے حملوں پر ایک نظر

رپورٹ کے مطابق 2013 میں برطانیہ بھر میں 43 مساجد، 2014 میں 21 مساجد، 2015 میں 24 مساجد، 2016 میں 46 جب کہ 2017 میں 34 مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور مساجد پر حملوں کا سلسلہ 2018 اور 2019 میں بھی جاری رہا۔