ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے مزید وقت دینے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

ایف اے ٹی ایف نے مزید اقدامات کے لیے پاکستان کو جون 2020 تک وقت دیا ہے، خزانہ ڈویژن — فائل فوٹو / اے پی
ایف اے ٹی ایف نے مزید اقدامات کے لیے پاکستان کو جون 2020 تک وقت دیا ہے، خزانہ ڈویژن — فائل فوٹو / اے پی

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے جون 2020 تک 'گرے لسٹ' میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ماتحت خزانہ ڈویژن سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے تحت مثبت پیش رفت کی اور ٹاسک فورس نے پاکستان کے اقدامات کو تسلیم کیا اور ایکشن پلان پر عمل کے عزم کو سراہا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایف اے ٹی ایف نے مزید اقدامات کے لیے پاکستان کو جون 2020 تک وقت دیا ہے اور پاکستان کی پیشرفت کا اگلا جائزہ جون میں لیا جائے گا، جب تک پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خزانہ ڈویژن کے مطابق حکومت ایکشن پلان کے باقی نکات پر عمل کے لیے اقدامات کرے گی اور اس کے لیے حکمت عملی مرتب کرلی گئی ہے۔

چین کی پاکستان کے اقدامات کی تعریف

قبل ازیں چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اکثر ارکان نے پیرس میں جاری اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔

— فوٹو: چینی وزارت خارجہ
— فوٹو: چینی وزارت خارجہ

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بیجنگ میں ایک نیوز بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ ’اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری رکھنے کے لیے مزید وقت دیا جائے گا‘۔

ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی مزید حمایت نہ کرنے اور اس حوالے سے چین کی پوزیشن تبدیل ہونے سے متعلق بھارتی میڈیا رپورٹس پر سوال کے جواب میں گینگ شوانگ نے کہا کہ اس معاملے پر چین کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ چین کا مؤقف ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا مقصد منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف اداروں کو مضبوط بنانے سے متعلق ممالک کی کوششوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کا تحفظ ہے۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کو مزید 4 ماہ کی مہلت ملنے کا امکان

گینگ شوانگ نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں پاکستان کو مزید تعاون کی پیشکش کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

قبل ازیں اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں جنہیں ایف اے ٹی ایف کے اکثر ارکان نے تسلیم کیا ہے‘۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ چین اور دیگر ممالک اس سلسلے میں پاکستان کو تعاون کی پیشکش کرتے رہیں گے۔

چینی وزارت خارجہ کا مذکورہ بیان پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نکالنے سے متعلق ایف اے ٹی ایف کے فیصلے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ سے ملاقات میں ’ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی حمایت ‘ پر چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

فنانس ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مشیر خزانہ نے کہا کہ چین اور دیگر برادر ممالک نے فریم ورک کو بہتر بنانے میں رہنمائی کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت کی ہے۔

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 16 سے 21 فروری تک جاری رہنے والا اجلاس مکمل ہونے کے بعد ایک باضابطہ بیان آج (بروز جمعہ) جاری کیا جائے گا، ذرائع کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔

ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر ریونیو حماد اظہر کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کیا جائے گا‘

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ باخبر ذرائع نے فرانس کے شہر پیرس سے ڈان کو بتایا تھا کہ ورکنگ گروپ اجلاس میں ایکشن پلان کے حوالے سے پاکستان کی بہتر ہوتی کارکردگی کو سراہا گیا لیکن چند دوست ممالک کے سوا تمام اراکین نے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 27 نکاتی پلان میں سے نصف سے زائد اہداف پر پاکستان نے مکمل طور پر عمل کیا ہے یا وہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہیں۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری رکھتے ہوئے جون 2020 تک مکمل عملدرآمد کر کے ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کو دور کرے بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی اے کے پلانری گروپ نے انسداد منی لانڈرنگ/دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے عمل میں پائی گئی ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کی بنا پر جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔

اکتوبر 2019 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو رواں برس فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 27 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی مہلت دی تھی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے اسلام آباد کو مزید اقدامات لینے کی ہدایت کی تھی جبکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات کے حل میں کارکردگی کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بعدازاں جنوری میں بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوا تھا جس میں پاکستان نے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست فراہم کی تھی۔