’ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کیا جائے گا‘

اپ ڈیٹ 18 فروری 2020

ای میل

ایف اے ٹی ایف کے پلانری سیشن کا اجلاس 19 فروری کو ہوگا —فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ
ایف اے ٹی ایف کے پلانری سیشن کا اجلاس 19 فروری کو ہوگا —فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ

واشنگٹن: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) پیرس میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کرے گا لیکن اسے بدستور نگرانی کی فہرست میں رکھ سکتا ہے۔

یہ بات واشنگٹن کے وڈرو ولسن سینٹر میں امور جنوبی ایشیا کے اسکالر مائیکل کلگیلمن نے کہی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کا آغاز پیر سے ہوگیا تھا لیکن پلانری سیشن کا اجلاس 19 فروری کو ہوگا جو پاکستان کو گرے لسٹ کے نام سے معروف واچ لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرے گا۔

مائیکل کلگیلمن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا گرے لسٹ سے اخراج اس کے لیے قبل از وقت ہے، اس کا فیصلہ رواں سال بعد میں ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور پاکستان کی معیشت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بات میرے لیے واضح ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کیا جائے گا‘۔

تاہم واشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کے ایک نان ریزیڈینٹ فیلو عذیر یونس کا کہنا تھا کہ ’اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ پاکستان کو ممکنہ طور پر اگر ہفتوں میں نہیں تو آئندہ چند ماہ میں گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا‘۔

واشنگٹن کے امریکی انسٹیٹیوٹ اؔف پیس میں پاکستان کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمنار میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’اس سے مالی سرمایہ کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا، جو ملک کی معیشت کے لیے کم از کم مختصر مدت کے لیے اچھا ہے‘۔

مائیکل کلگلیمین کا کہنا تھا کہ ’امریکی حکام کو یقین ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے حوالے سے خاصی پیشرفت کی ہے اور حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت پر سزا بھ ایف اے ٹی ایف اراکین کے لیے حوصلہ افزا اشارہ ہے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی کارکردگی پر جائزے کیلئے ایف اے ٹی ایف کا اجلاس

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گرے لسٹ کا سوال مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، واشنگٹن اب بھی بڑے اور ناقابل واپسی اقدامات کا منتظر ہے اور یہ انکشاف کے مسعود اظہر ’لاپتہ‘ ہیں اچھا نہیں ہوگا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے ہفتوں کے دوران جب تک چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کو قائل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔

علاوہ ازیں واشنگٹن کے بروکلین انسٹیٹیوٹ کی مدیحہ افضل نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ حافظ سعید کی سزا ’معنی خیز‘ ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان کی اپیل سے کس طرح نمٹا جائے گا۔

انہوں نے ایک پوچھا گیا سوال اٹھایا کہ ’کیا حافظ سعید کی سزا کالعدم قرار دے دی جائے گی؟ بالخصوص جب اگر پاکستان گرے لسٹ سے باہر آجائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا

یاد رہے کہ پاکستان کو اس سے قبل 2012 سے 2015 تک گرے لسٹ میں رکھا گیا تھا لیکن انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی قوانین میں سخت اصلاحات کی قانون سازی کے بعد 2016 میں اسے خارج کردیا گیا تھا۔

پیرس میں ملک کا کیس پیش کرنے والے حکام کو یقین ہے کہ اگر وہ چند مغربی ممالک کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ اکتوبر 2019 میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے آخری اجلاس کے بعد اٹھائے گئے اقدامات سے دہشت گردی کی مالی معاونت کا خاتمہ ہوگا، تو اسلام آباد گرے لسٹ سے باہر آسکتا ہے۔