افغان امن عمل: پاکستان کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط ہوں گے، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 22 فروری 2020

ای میل

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا پر امن حل آسان تھا نہ ہے — فائل فوٹو: پی آئی ڈی
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا پر امن حل آسان تھا نہ ہے — فائل فوٹو: پی آئی ڈی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل پر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط ہوں گے کیونکہ پاکستان کے بغیر ان معاملات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'افغانستان کے مسئلے کا پُرامن حل آسان تھا نہ ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سب سے پہلے تو ہمیں دنیا کو یہ باور کروانا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں (لہٰذا) جامع مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ 'دوسری بات یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے آمادہ کرنا بھی آسان نہیں تھا'

مزید پڑھیں: امریکا، طالبان کے درمیان امن معاہدے پر جلد دستخط ہوں گے، ترجمان دفتر خارجہ

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'جب افغانستان میں ایک ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ کی طرف سے ٹوئٹ آیا کہ انہوں نے افغان امن مذاکرات معطل کر دیے ہیں تو ہماری کوشش تھی کہ مذاکرات جلد دوبارہ بحال ہوں'۔

انہوں نے بتایا کہ 'پاکستان نے 2 مغویوں کو چھڑانے میں اپنا کردار ادا کیا جبکہ دوحہ کے اندر مذاکرات کا شروع ہونا بھی آسان نہیں تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'خوشی کی بات یہ ہے کہ آج دونوں فریق کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تفصیلات طے کرلی ہیں، ہم ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ ہمیں تشدد میں کمی بھی لانی ہے اور انشاء اللہ 29 تاریخ کو اس معاہدے پر دستخط بھی کرنے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'آج امریکا سمیت پوری دنیا ہمارے کردار کو سراہ رہی ہے، چند روز قبل افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اسلام آباد تشریف لائے جہاں وزیراعظم عمران خان اور میرے ساتھ ان کی تفصیلی ملاقات بھی ہوئی'۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'سارے معاملات جو اب منظر عام پر آ رہے ہیں ان پر ہماری تفصیلی مشاورت بھی ہوئی اور ہم نے ایک روڈ میپ طے کیا تھا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'ہم نے زلمے خلیل زاد کو یہ بھی کہا تھا کہ ایسے عناصر موجود ہیں جو اس ساری صورتحال کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ ہمیں ان عناصر سے باخبر رہنا ہوگا کیونکہ ایک طبقہ ہے جو جنگ کی کیفیت سے مستفید ہو رہا ہے،(لہٰذا) امریکا اور اس کے حلیفوں کو ان عناصر پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی دیانتداری اور کوششیں رنگ لے آئیں کہ بات یہاں تک پہنچی ہے، امید ہے کہ یہ بات مزید آگے بڑھے گی'۔

یہ بھی پڑھیں: معاہدہ طے پانے کے امکانات روشن، طالبان کا عارضی جنگ بندی پر اتفاق

انہوں نے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کی بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جب مائیک پومپیو پاکستان تشریف لائے اور میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس وقت پاک-امریکا تعلقات میں تناؤ تھا، میں نے ان سے پاک-امریکا تعلقات کو از سر نو استوار کرنے کے حوالے سے بات کی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ بہتری کا یہ راستہ کابل سے مشروط ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'آج میں ان کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ہم نہ کابل تک کا سفر طے کر لیا ہے ہم نہ صرف ایک مستند وفد کو سامنے لے کر آئے بلکہ اس وفد نے مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچایا'۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'اب یہ افغانستان کی قیادت کی ذمہ داری ہے، جنہوں نے اس جنگ کی جانی اور مالی قیمت ادا کی ہے (لہٰذا) اس قیادت کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے'۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'میرا تجزیہ یہ ہے کہ افغانستان کے عوام تو امن چاہتے ہیں (لیکن) اب یہ خواص پر منحصر ہے کہ وہ امن کی کاوشوں کو آگے بڑھاتے ہیں یا اسے سیاسی رسہ کشی کی نظر کرتے ہیں، (تاہم) اس کی تمام ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے پاکستان پر نہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط ہوں گے کیونکہ پاکستان کے بغیر ان معاملات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ '29 فروری کے بعد کوشش ہے کہ ایک جامع وفد تشکیل پائے جس سے انٹرا افغان مذاکرات کی طرف بڑھا جائے گا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'پاکستان نے خلوص اور نیک نیتی سے افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور اب افغانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے'۔

واضح رہے کہ چند روز قبل طالبان نے افغانستان میں 7 دن کے لیے پرتشدد کارروائیوں میں کمی کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد امریکا نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ جلد طے پانے کی امید ظاہر کی تھی۔

جنگ بندی پر رضامندی کا حالیہ اعلان ایک امریکی عہدیدار نے کیا، جس سے ایک روز قبل ہی افغان صدر اشرف غنی نے عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت میں ’قابل ذکر پیش رفت‘ ہونے کا اشارہ دیا تھا۔