بلاول کے بیان پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا آصف زرداری سے احتجاج

اپ ڈیٹ 24 فروری 2020

ای میل

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو طویل غیر حاضری پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو طویل غیر حاضری پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

لاہور: شریف برادران کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو ان کے بیٹے کے ’بلاجواز جملوں‘ پر ’ناراضی‘ کا پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ ’سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے بیان کو پسند نہیں کیا اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت تک اپنی ناراضی کا پیغام پہنچا دیا ہے‘۔

یاد رہے کہ بلاول بھٹو نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ عمران خان کی طرح مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی ’سیلیکٹڈ‘ (اسٹیبلشمنٹ کے منتخب) وزیراعظم تھے۔

یہ بھی پڑھیں:موجودہ حکومت 6 ماہ میں چلی جائے گی، بلاول کا دعویٰ

اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ 'عمران خان سے پہلے نواز شریف بھی سلیکٹڈ وزیر اعظم تھے، بینظیر بھٹو نے انہیں امیر المومنین بننے نہیں دیا تھا اور 1997 میں قومی اسمبلی صرف 17 اراکین کے ساتھ مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا تھا'۔

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو طویل غیر حاضری پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرح مسلم لیگ (ن) بھی پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتی۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ قیادت کی جانب سے ’ناراضی‘ کا پیغام پہنچانے کے بعد امید ہے کہ بلاول بھٹو کی جانب سے مزید کوئی ’پھلجڑی‘ نہیں چھوڑی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کی قیادت نے ہمیں سختی سے اس پر ردِ عمل نہ دینے کی ہدایت کی ہے کیوں کہ ہمیں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے‘۔

مزید پڑھیں: 2020 صاف و شفاف عوامی الیکشن کا سال ہوگا، بلاول بھٹو

مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ڈان کو بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل کے بارے میں بات کرنی چاہیے کیوں کہ دوبارہ الزام تراشیوں میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی پی پی اور دیگر جماعتوں کی تاریخ سب کے سامنے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دے جس نے قیمتوں میں اضافے، مہنگائی، بے روزگاری سے عوام کی زندگی مشکل بنادی ہے اور ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے اپوزیشن کے مقصد کو نقصان پہنچے‘۔

بلاول کے بیان کی پسِ پردہ وجہ

مسلم لیگ (ن) کے کچھ اراکین کی رائے ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی میں ان کے قریب کچھ رہنماؤں نے مشورہ دیا ہے کہ اگر پنجاب میں پارٹی کو تجدید دینی ہے تو شریفوں پر تنقید کرنی ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اس وقت دونوں جماعتوں کو کسی خاص مقصد یعنی ان ہاؤس تبدیلی کے لیے تعاون کرنے کی ضرورت نہیں اس لیے بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے توپوں کا رخ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی طرف بھی کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول ’ان ٹچ‘ نہیں کہ کوئی ادارہ انہیں طلب نہیں کرسکتا

ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی رہنما کو معلوم تھا کہ عمران خان کی حکومت کو ’سیلیکٹرز نے مزید وقت دے دیا ہے اس لیے وہ پنجاب میں ’جارحانہ سیاست‘ کرتے ہوئے، ایسے وقت میں کہ جب پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے کا مشترکہ چیلنج درپیش ہے، اپنے فطری اتحادی مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی کوئی نرمی نہیں دکھا رہے۔

اس سلسلے میں پی پی پی کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کے شریف برادران کے بارے میں دیے گئے بیان پر زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ وہ سیاق و سباق کے حوالے سے بیان کردہ حقائق تھے۔