اومنی گروپ کی شوگر ملیں چل رہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جہانگیر ترین

اپ ڈیٹ 25 فروری 2020

ای میل

جہانگیر نے چینی کی قیمتوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی کا خیرمقدم کیا—فوٹو:ڈان نیوز
جہانگیر نے چینی کی قیمتوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی کا خیرمقدم کیا—فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین نے چینی کے قیمتوں کے حوالے سے کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے اومنی گروپ کی شوگر ملز کے اکاؤنٹ فریز کرنے کا حکم دیا اس کے باوجود وہ چل رہی ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام نیوز آئی میں بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ‘گندم کا کوئی بحران نہیں تھا، دو غلط فیصلوں کی وجہ سے ایک ہفتے کا مسئلہ تھا، 8 لاکھ ٹن گندم ذخیرے میں موجود تھی’۔

میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘چینی کے حوالے سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا اور اس حوالے سے انکوائری کمیٹی کا خیر مقدم کرتا ہوں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے اور ہوگا، وزیر اعظم پر بھی دباؤ ہے، میرے اور ہماری پارٹی کے چند اور لوگوں کے بارے میں ان سے جا کر کہا جاتا ہے اس لیے انکوائری ہو تو اچھی بات ہے تاکہ لوگوں کے منہ بند ہوں اور ایک چیز سامنے آجائے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میری 6 ملیں ہیں باقی 80 ملیں آصف علی زرداری اور دیگر کی ہیں، ایک دلچسپ بات آن ریکارڈ بتانا چاہتا ہوں کہ اومنی گروپ کی7 سے 9 ملیں ہیں، عدالت نے ملوں کو بند کرنے اور ان کے اکاؤنٹ فریز کرنے کا حکم دیا لیکن وہ آج بھی چل رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے’۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ‘ان سے پوچھ لیں، سندھ میں ہیں ساری ملیں، وہاں تو کسی کو جانے کی ہمت نہیں ہے، آن ریکارڈ کہہ رہا ہوں ٹھیکیدار چلا رہے ہیں، سب کے نام پتہ ہیں اور موجود ہیں میں نے لوگوں کو بھیجا ہے کہ جا کر ان کو پکڑیں’۔

گنے کے کسانوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘کسانوں کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں کتنے پیسے مل رہے ہیں اور حساب کریں’۔

'مسابقتی کمیشن کی رپورٹ پر کابینہ میں سناٹا چھا گیا'

مسابقتی کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘مسابقتی کمیشن ایک پروفیشنل ادارہ ہے اس کو کہا گیا ہے کہ چینی اور آٹے میں کارٹیل کے بارے میں تحقیق کرے تو اس وقت تو سب کو اعتماد تھا، کسی نے نہیں کہا کہ کمیشن کے سربراہ حکم امتناع پر چل رہے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جب انہوں نے کابینہ کو رپورٹ دی کہ آٹا اور چینی میں کوئی کارٹیل نہیں ہے تو کابینہ میں سناٹا چھا گیا اور اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ یہ کام ٹھیک نہیں ہے، رپورٹ بھی کسی کو دکھائی نہیں گئی تھی’۔

یہ بھی پڑھیں:چینی مافیا-سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ، صارفین اور کسانوں کو دھوکا دینے میں ملوث

جہانگیر ترین نے حکومت میں ان کے خلاف لابی کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہے لیکن شاہ محمود قریشی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے، ان کے ساتھ بیٹھ کر مسائل ختم کرلیے ہیں، وہ میرے پرانے ساتھی ہیں اور جب ہم نوجوان تھے تو ملتان میں اکٹھے اسکواش کھیلتے تھے۔

شاہ محمود قریشی سے پرانے اختلافات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ مسائل بنادیے گئے تھے اور یہ مسائل پارٹی کے انتخابات کے حوالے سے بنائے گئے تھے’۔

'پاکستان میں بڑا مسئلہ کالا دھن ہے'

ذخیرہ اندوزی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ‘بڑے بڑے ذخیرہ اندوز ہیں، پاکستان میں مسئلہ کالے دھن کا ہے جس کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، بلیک منی کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے جو اندازوں پر استعمال ہوتا ہے اس کے ذریعے کبھی آلو، کبھی چینی بھی خرید لیا جاتا ہے اور اسی وقت اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 6 مہینے بعد چینی کی قیمت اتنی ہوگی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مزے کی بات یہ ہے کہ وہ سود کو پسند نہیں کرتے تو وہ اندازے لگا کر یہ کر لیتے ہیں، شوگر ملز کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیونکہ شوگر ملز کارٹیل کی متحمل نہیں ہوسکتیں اور یہ ممکن نہیں ہے’۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ‘کسانوں کو اس وقت گنے کی زیادہ قیمت مل رہی ہے اور وہ خوش ہیں، اس سال کمی تھی اس لیے ایسا ہوگیا، اگر ہم کارٹیل ہیں تو گنے کی قیمت قابو نہیں کرسکتے پھر چینی کی قیمت کیا خاک کنٹرول کریں گے’۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کردی تھی۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کے علاوہ دیگر اراکین میں ‘انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا نمائندہ جو بنیادی اسکیل 20 یا 21 سے کم نہ ہو اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انسداد بدعنوانی پنجاب’ شامل ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ‘سربراہ کسی اور کو بھی رکن مقرر کر سکتے ہیں’۔

کمیٹی کو تحقیقات کے لیے 13 پہلو بتائے گئے ہیں جن کی تفتیش کرکے رپورٹ مرتب کی جائے گی، ان کے علاوہ کوئی اور وجہ سامنے آئے تو کمیٹی کو اس کی تحقیقات کا بھی مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

'دکھ کی بات ہے کہ پارٹی میں دھڑے ہیں'

پنجاب حکومت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب پنجاب سے اچھی اچھی خبریں آئیں گی سب مطمئن رہیں۔

مزید پڑھیں:' چینی کی مہنگائی کےذمہ دار شوگر ملز کےمالکان ہیں'

جہانگیر ترین نے کہا کہ ‘یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ہماری پارٹی کے اندر دھڑے ہیں اور یہ حقیقت ہے، اگر میں آپ کے سامنے بیٹھ کر کہوں نہیں ہے تو کوئی بھی ملک چلانا، کمپنی چلانا مشکل ہوجاتا ہے، پارٹی کے اندر ڈسپلن ہوگا تو اچھا کام ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈسپلن کا مطلب ہے کہ یکجا ہوں، اگر آپ ٹیم پلیئر نہیں ہیں اور اپنے لیے کھیل رہے ہیں تو پھر آپ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں اور آپ کو ٹیم میں نہیں ہونا چاہیے’۔

واضح رہے کہ چینی کی قیمتیں گزشتہ دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی تھیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر اتنی توجہ نہیں دی تھی جس کی وجہ سے منافع خوروں کو فائدہ پہنچا۔

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم نے ای سی سی میں معاملہ جانے سے قبل ہی سمری کی منظوری دی تاکہ 3 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی برآمد فوری روکی جاسکے اور 3 لاکھ ٹن چینی نجی شعبے کے ذریعے درآمد کی جاسکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے درمیان پاکستان نے ایک لاکھ 41 ہزار 447 میٹرک ٹن چینی برآمد کی۔

2017-18 کے درمیان چینی کی فی کلو قیمت تقریباً 53 روپے 75 پیسے تھی جبکہ 17-2016 میں 61 روپے 43 پیسے، 16-2015 میں 64 روپے 3 پیسے اور 15-2014 میں 58 روپے 91 پیسے تھی۔

واضح رہے کہ چینی کی قیمت میں ایک روپے فی کلو اضافے کا مطلب صارفین سے 5 ارب 10 کروڑ روپے کا منافع ہوتا ہے۔

مقامی سطح پر سالانہ چینی کا استعمال 51 لاکھ میٹرک ٹن سے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کے بحران کے پیش نظر برآمدات پر پابندی

اسٹیک ہولڈرز اور سینیئر حکام کے انٹرویو سے دیگر متعدد مسائل بھی سامنے آئے جن کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو 8 سال بعد چینی درآمد کرنی پڑ سکتی ہے۔

گزشتہ 3 ہفتوں میں چینی کی قیمت عالمی منڈی میں 418 ڈالر سے 350 ڈالر فی ٹن رہی جو ظاہر کرتی ہے کہ اگر حکومت تمام ڈیوٹی اور ٹیکسز اس کی درآمد پر سے ہٹادے تو کراچی پورٹ پر چینی کی قیمت 85 روپے فی کلو ہوگی جبکہ اس کی ملک کے دیگر حصوں میں ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) کی لاگت اس میں الگ سے شامل کی جائے گی۔

اسٹیک ہولڈرز اور حکام کے انٹرویو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حکومت نے بجٹ میں مقامی چینی کی قیمتوں میں سیلز ٹیکس کو 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردیا تھا جبکہ سیلز ٹیکس کو واپس لینے سے چینی کی قیمتیں مقامی مارکیٹ میں کم ہوسکتی ہیں تاہم اس تجویز پر حکومت غور نہیں کر رہی۔