’دوران حمل اینٹی بائیوٹیک بچے میں پیدائشی نقص کا خطرہ بڑھاتی ہیں‘

اپ ڈیٹ 25 فروری 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

دوران حمل اینٹی بائیوٹیک ادویات کا استعمال پیدا ہونے والے بچے میں پیدائشی نقص کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران میکرولائیڈز اینٹی بائیوٹیکس کا استعمال بچوں میں پیدائشی نقص کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع تحقیق میں میکرولائیڈز (ایسی ادویات جو عام بیکٹریل انفیکشن کے لیے استعمال ہوتی ہیں) اور بچوں میں پیدائش کے بعد نقص جیسے دل میں خرابی، مرگی، اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تحقیق میں ایک لاکھ بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جن کی پیدائش 1990 سے 2016 کے درمیان ہوئی تھی۔

تحقیق میں ایسے 82 ہزار سے زائد بچوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن کی ماﺅں کو حمل سے قبل میکرولائیڈ یا پینسلین ادویات تجویز کی گئی تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 8 ہزار سے زائد ایسی ماﺅں جن کو حمل کے دوران میکرولائیڈ اینٹی بائیوٹیکس ادویات کا استعمال کرایا گیا تھا۔

دیگر عناصر کا تجزیہ کرنے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران میکرولائیڈ ادویات کا استعمال کسی بھی قسم کے پیدائش نقص کا خطرہ پینسلین کے مقابلے میں بڑھا دیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ میکرولائیڈ اینٹی بائیوٹیکس کو بیکٹریل انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور مغربی ممالک میں دوران حمل ان کے استعمال کافی عام ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحقیق سابقہ شواہد پر مشتمل ہے جس کے نتائج میں بتایا گیا کہ میکرولائیڈ ادویات سے ماں کے پیٹ میں موجود بچے پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یہ مشاہداتی تحقیق تھی اور محققین نے اس کے سبب کا تعین نہیں کیااور ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔