کورونا وائرس: پاکستان کا ایران سے براہ راست پروازیں معطل کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ فروری 27 2020

ای میل

ایران کے ساتھ پروازوں کی معطلی تاحکم ثانی ہوگی—فائل فوٹو: اے ایف پی
ایران کے ساتھ پروازوں کی معطلی تاحکم ثانی ہوگی—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے پڑوسی ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایران کے ساتھ رات 12 بجے سے براہ راست پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بذریعہ سڑک اور ریل نقل و حرکت پہلے ہی رواں ہفتے کے اوائل میں معطل کردی گئی تھی۔

اس حوالے سے ایوی ایشن ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری عبدالستار کھوکھر کی جانب سے بتایا گیا کہ 27 اور 28 فروری کی درمیانی شب یعنی رات 12 بجے سے ایران سے براہ راست پروازوں پر تاحکم ثانی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا خطرہ: سعودی عرب نے عمرہ زائرین کے داخلے پر پابندی لگادی

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کے رپورٹ ہونے کے بعد مذکورہ فیصلہ کیا گیا کیونکہ دونوں متاثرہ اشخاص نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا تھا۔

یہ ہی نہیں بلکہ پاکستان سے عمرہ اور سیاحت کے لیے سعودی عرب جانے کے خواہش مند افراد بھی عارضی طور پر وہاں کا سفر نہیں کرسکیں گے۔

حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ عمرہ زائرین اور سیاحت کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم جو لوگ اقامہ رکھتے ہیں یا سعودی شہری ہیں ان کے لیے پروازیں جاری رہیں گی۔

مذکورہ فیصلہ سعودی عرب کی حکومت کے اس فیصلے میں کیا گیا جس میں انہوں نے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے اس سے متاثرہ ممالک کے لوگوں کے لیے عمرہ اور سیاحت کے لیے داخلے پر پابندی لگادی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق

علاوہ ازیں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے بھی ان اقدامات سے متعلق ٹوئٹ کی اور کہا کہ اگرچہ قومی ایئرلائن اپنا فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری رکھے گی لیکن عمرہ یا سیاحت کا ویزا رکھنے والوں کو سعودی عرب کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ 'پی آئی اے سعودی حکومت کی دی گئی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کرے گا'۔

قبل ازیں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا کہ عمان سے آنے والی پروازوں کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر اتارا گیا اور مسافروں کے امیگریشن اور ایئرپورٹ سے باہر جانے سے قبل انہیں وائرس سے چیک کیا گیا۔

سی اے اے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ رن وے پر مسافروں کو چیک کرنے کا فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

پاکستان میں کورونا وائرس

واضح رہے کہ چین سے شروع ہونے والے مہلک کورونا وائرس کے پاکستان میں پہلے دو کیسز کی تصدیق 26 فروری 2020 کو ہوئی تھی۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے پہلے کراچی کے ایک 22 سالہ نوجوان میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی تھی جس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں 2 کیسز کی تصدیق کی تھی۔

ابتدائی طور پر انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 'دونوں کیسز کا کلینیکل اسٹینڈرڈ پروٹوکولز کے مطابق خیال رکھا جارہا ہے اور دونوں افراد کی حالت مستحکم ہے۔'

ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ 'حالات کنٹرول میں ہیں اور گھبرانے کی ضرورت نہیں'۔

بعد ازاں ڈاکٹر ظفر مرزا نے میڈیا سے گفتگو کی تھی اور دونوں کیسز کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ایک مریض کی تشخیص سندھ اور دوسرے کی وفاقی علاقے میں ہوئی ہے، دونوں کیسز کا تعلق ایران کے سفر کے ساتھ ہے اور دونوں افراد نے گزشتہ دو ہفتے کے دوران ایران کا دورہ کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بلا ضرورت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، موجودہ صورت حال میں ہمیں احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اگر کوئی چین یا ایران کا سفر کر چکا ہے اور اس میں وائرس کی علامات جیسے بخار، کھانسی پائی جاتی ہے یا اسے سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے تو وہ ڈاکٹر سے رابطہ کرے اور علامات کی صورت میں ہماری ہیلپ لائن 1166 پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس کا پھیلاؤ

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس سے اب تک 34 ممالک سے 2800 افراد ہلاک جبکہ 82 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے بڑی تعداد میں کیسز چین میں رپورٹ ہوئے۔

اس وائرس کے بارے میں یہ مانا جارہا ہے کہ یہ گزشتہ برس چین کے شہر ووہان میں سمندری غذا کی مارکیٹ سے پھیلنا شرو ہوا۔ ماہرین صحت کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ وائرس چمکاڈر سے شروع ہوا اور پھر ممکنہ طور پر کسی دوسرے جانور کے ذریعے انسان میں پھیلا۔ اس بارے میں دنیا بھر کے مختلف ممالک میں احتیاطی تدابیر اختار کرتے ہوئے کچھ مقامات کو قرنطینہ میں تبدیل کرکے متاثرہ افراد کو 14 دن کی نگرانی میں بھی رکھا جارہا ہے۔

تاہم حالیہ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ وائرس چین کے علاوہ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔