طالبان قیدیوں کی رہائی کا طریقہ کار طے پایا گیا، افغان صدر

اپ ڈیٹ 09 مارچ 2020

ای میل

اشرف غنی نے دوسرے دور کے لیے صدر کا حلف اٹھایا—فوٹو:رائٹرز
اشرف غنی نے دوسرے دور کے لیے صدر کا حلف اٹھایا—فوٹو:رائٹرز

اشرف غنی نے دوسری مدت کے لیے افغانستان کے صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کا طریقہ کار طے پاگیا ہے اور اس حوالے سے صدارتی فرمان جاری کردیا جائے گا۔

افغان دارالحکومت کابل میں صدارتی محل میں تقریب حلف برداری میں خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی پر بات کی جہاں سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی متوازی تقریب کا اہتمام کیا تھا اور حلف بھی اٹھایا۔

اشرف غنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘حکومت میں صرف ہمارے سیاسی گروپ کے ارکان شامل نہیں ہوں گے بلکہ مشاورت کے بعد وسیع حکومت ہوگی لیکن سابق کابینہ دو ہفتوں تک کام کرے گی’۔

واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے 2 مارچ کو اپنے بیان میں طالبان قیدیوں کی رہائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق شق کو نہیں مانتے۔

اشرف غنی نے کابل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘افغان حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا’۔

مزید پڑھیں:امریکا-طالبان معاہدہ: افغان صدر نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد کردیا

افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اس معاہدے کی جزوی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا تھا کہ طالبان کی جانب سے ایک ہزار قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں 5 ہزار طالبان جنگجوؤں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ ‘یہ امریکا کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا بلکہ وہ صرف ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہے تھے'۔

دوسری طرف طالبان نے افغان صدر کے بیان پر ردعمل میں کہا تھا کہ جب تک ہمارے 5 ہزار قیدی رہا نہیں کیے جاتے اس وقت تک بین الافغان مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے اور طویل جنگ کے خاتمے کے لیے اس کو بنیادی قدم قرار دیا تھا۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ‘اگر ہمارے 5 ہزار قیدی رہا نہیں ہوئے تو بین الافغان مذاکرات نہیں ہوں گے، اس تعداد میں 100 یا 200 کی کمی بیشی ہو سکتی ہے جس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے’۔

افغانستان کے صدر کے لیے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی جانب سے تقریبات کے اعلان پر طالبان ترجمان نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ’ہمارا نہیں خیال کہ وہ 10 مارچ کو بین الافغان مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوں گے، سیاست دانوں کے درمیان اختلافات کے باعث صدارتی حلف برداری کی 2 تقریبات ہو رہی ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں:اشرف غنی نے دھماکوں کی گونج میں دوسری مرتبہ افغان صدر کا حلف اٹھالیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ وہ حلف اٹھانے کے بجائے بین الافغان مذاکرات پر توجہ دیں، ہمارا ان سے مطالبہ ہے کہ آپس کے اختلافات کو چھوڑیں، حلف نہ اٹھائیں اور امن کے لیے کام کریں‘۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ بہرحال دونوں فریقین کی جانب سے قیدیوں کے معاملات پر عہدیداران نے ہفتے اور اتوار کے روز دوحہ میں ملاقات کی جو امریکا-طالبان کے درمیان فوجوں کے انخلا کے معاہدے کے بعد افغان حکومتی عہدیداران کے ساتھ ہونے والا پہلا رابطہ تھا۔

طالبان ترجمان کا اصرار تھا کہ یہ باضابطہ بین الافغان مذاکرات نہیں تھے بلکہ قیدیوں کی رہائی کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرنے کے لیے ملاقات تھی جس میں قیدیوں کی فہرست کی تیاری اور ان کی شناخت کے حوالے سے تفصیلات وغیرہ شامل تھیں۔

یاد رہے کہ افغان طالبا اور امریکا کے درمیان 29 فروری کو امن معاہدہ ہوا تھا جس پر امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ ملا عبدالغنی نے دستخط کیے تھے۔

چار صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے۔

  • طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔

  • افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادیوں فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائےگا۔

  • طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔

  • انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔