اسلام آباد: پاک فضائیہ کا ایف-16طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ شہید

اپ ڈیٹ 11 مارچ 2020

ای میل

حادثے کے بعد دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے—فوٹو: اے ایف پی
حادثے کے بعد دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے—فوٹو: اے ایف پی
سیکیورٹی فورسز نے طیارہ گرنے کے بعد علاقے کو خالی کروالیا—تصویر: اے ایف پی
سیکیورٹی فورسز نے طیارہ گرنے کے بعد علاقے کو خالی کروالیا—تصویر: اے ایف پی
شہید پائلٹ ونگ کمانڈر نعمان اکرم شیر افگن اعزاز حاصل کرتے ہوئے—فائل فوٹو: اے پی پی
شہید پائلٹ ونگ کمانڈر نعمان اکرم شیر افگن اعزاز حاصل کرتے ہوئے—فائل فوٹو: اے پی پی
ریسکیو ادارے جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے—تصویر: اے ایف پی
ریسکیو ادارے جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے—تصویر: اے ایف پی
حادثے کے مقام کے قریب عوام کی بڑی تعداد جمع ہوگئی—تصویر: اے ایف پی
حادثے کے مقام کے قریب عوام کی بڑی تعداد جمع ہوگئی—تصویر: اے ایف پی

اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے قریب پاک فضائیہ کا ایف-16 طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں پائلٹ شہید ہوگئے۔

ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے حادثے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاک فضائیہ افسوس کے ساتھ آگاہ کررہی ہے کہ اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے قریب پی اے ایف کا ایف-16 طیارہ 23 مارچ پریڈ کی ریہرسل کے دوران گر کر تباہ ہوگیا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ریسکیو ٹیمز کو طیارہ تباہ ہونے کے مقام پر روانہ کردیا گیا اور ایئر ہیڈکوارٹرز نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ایک بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا ہے‘۔

پاک فضائیہ کے مطابق طیارہ حادثے میں ونگ کمانڈر نعمان اکرم شہید ہوگئے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے پائلٹ کی شہادت پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

قبل ازیں خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’ہم نقصانات کا اندازہ لگارہے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: میانوالی کے قریب پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹ شہید

حادثے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ڈاکٹرز، طبی عملہ، فائر بریگیڈ گاڑیاں اور ایمبولینسز جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچ گئیں۔

ابتدائی طور پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں جائے حادثہ سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا تاہم طیارے گرنے سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

آرمی چیف کا خراج عقیدت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے ونگ کمانڈر نعمان اکرم کو خراج عقیدت پیش کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 'مادر وطن کے دفاع کی خاطر جان دینا بڑی قربانی ہے، اللہ نعمان اکرم کو جوار رحمت میں جگہ دے، ونگ کمانڈر کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں۔'

اظہار تعزیت

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں جنگی طیارہ کریش ہونے میں ونگ کمانڈر نعمان اکرم کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور شہید پائلٹ کے اہلِ خانہ کے صبر کے لئے دعا کی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بھی پاک فضائیہ کا طیارہ گرنے سے پائلٹ کی شہادت پر رنج وغم کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ونگ کمانڈر نعمان اکرم کی شہادت پر بہت دکھ اور افسوس ہے، شہید پائلٹ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔

انہوں نے دعا کی اللہ تعالی شہید کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔

علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی شکر پڑیاں کے قریب پاک فضائیہ کے طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا

انہوں نے کہا کہ ونگ کمانڈر نعمان اکرم کی شہادت کا سن کر افسوس ہوا، حادثے میں شہید ونگ کمانڈر کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

ایف-16 جنگی طیارہ

خیال رہے کہ امریکی ساختہ ایف-16 فیلکن لڑاکا طیاروں کو ملٹی رول کومبیٹ (ہمہ جہت جنگی) طیارے کا درجہ حاصل ہے۔

ایف-16 فیلکن ایک انجن والا، آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والا طیارہ ہے، جو (Mach 2) رفتار پر 9-جی کی گریویٹی فورس (جی-فورس) پر مینوور کرسکتا ہے۔

امریکی کمپنی کے تیار کردہ ایف-16 فیلکن کی پہلی پرواز 20 جنوری 1974ء کو ہوئی جس کے بعد اس طیارے کو امریکی ایئر فورس میں 17 اگست 1978 میں شامل کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16 : دونوں میں کیا فرق ہے؟

ایف-16 فیلکن طیارے کو امریکی افواج نے کوریا اور ویتنام جنگ میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں طیارے کے وزن کو کم کرنے اور اس کی مینوور (Maneuver) کرنے کی صلاحیت بڑھانا شامل تھا۔

پاکستان نے سب سے پہلے 1983 میں 45، ایف-16 طیارے اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیے۔

پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پڑی تو امریکا نے ایف-16 طیاروں کی فراہمی کا سلسلہ بحال کیا تھا۔

سال 2009 میں پاک فضائیہ کے بیڑے میں مزید 14 طیارے اور سال 2010 میں ایک بار پھر 14، ایف-16 طیارے شامل ہوئے، یوں پاک فضائیہ کے زیرِ استعمال ایف-16 طیاروں کی مجموعی تعداد 68 ہوگئی۔

ماضی میں پیش آنے والے حادثات

اس سے قبل 12 فروری کو خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ دوران پرواز گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں پائلٹ باحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا تھا۔

ادھر 7 فروری کو صوبہ پنجاب کے شہر شورکوٹ کے قریب معمول کی پرواز کے دوران پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی و مالی نقصان ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا ایف 16 کا استعمال: امریکی موقف کی دستاویز سامنے آگئی

قبل ازیں 7 جنوری کو میانوالی کے قریب پاک فضائیہ کا طیارہ گرکر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار دونوں پائلٹ شہید ہوگئے تھے۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ کا طیارہ میراج معمول کی تربیتی پرواز کے دوران شور کوٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان ایئر فورس کے تربیتی طیارہ گرنے کے چند واقعات ماضی قریب میں پیش آئے ہیں جن میں ہوا بازوں نے جامِ شہادت بھی نوش کیا۔

24 نومبر 2015 کو طیارہ حادثے کا شکار ہوکر پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ آفیسر مریم مختار شہید ہوگئیں تھیں جو ایف ٹی سیون پی جی (FT-7PG) طیارے کی معمول کی پرواز پر تھیں۔

مئی 2017 میں طیارہ حادثے کے 2 واقعات پیش آئے تھے جن میں پہلا واقعہ 2 مئی کو صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں پیش آیا تھا جہاں میراج طیارہ گر کر تباہ ہوا، لیکن اس حادثے میں پائلٹ محفوظ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، 2 پائلٹ شہید

25 مئی 2017 کو میانوالی کے قریب پیش آنے والے ایک اور واقعے میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ ایف 7 پی جی گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس حادثے میں بھی خوش قسمتی کے ساتھ پائلٹ محفوظ رہے تھے۔

اگست 2017 میں بھی طیارہ گرنے کے 2 واقعات پیش آئے تھے جن میں پہلا واقعہ 9 اگست کو میانوالی سبزہ زار کے قریب پیش آیا جہاں ایف سیون پی جی (F-7PG) طیارہ گر کر تباہ ہوا جس میں پائلٹ ذیشان شہید ہوگئے تھے۔

17 اگست 2017 کو سرگودھا کے قریب ایف سیون پی جی (F-7PG) طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا، تاہم اس پائلٹ محفوظ رہے تھے۔

گزشتہ سال کے اوائل میں بھی اس طرح ایک واقعہ پیش آیا تھا جب بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں پائلٹ شہید ہوگئے تھے۔