کورونا وائرس کا علاج، سائنسدانوں کی نئے طریقوں میں اہم پیشرفت

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا بھر میں ڈیڑھ سو کے قریب ممالک میں نئے نوول کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ ساڑھے 6 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

اس وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں سائنسدان اس کے علاج کے طریقہ کار اور ویکسین کی تیاری پر کام کررہے ہیں۔

اس حوالے سے مختلف ممالک میں ویکسینز کی آزمائش اگلے ماہ سے شروع ہورہی ہے جبکہ کچھ ادویات کو بھی انسانوں پر آزمایا جارہا ہے۔

اور اب چند اور ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے مثبت پیشرفت کے دعوے سامنے آئے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ یہ روایتی ادویات یا ویکسین سے بالکل ہٹ کر ہیں۔

نیدرلینڈ

نیدرلینڈ کے اراسموس میڈیکل سینٹر اور اتریچت یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے ایسی اینٹی باڈی کو دریافت کرلیا ہے جو نئے کورونا وائرس کی شناخت کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اس سے متاثر ہونے سے بچاسکتا ہے۔

ابھی تک اسے انسانوں پر آزمایا نہیں گیا اور باقاعدہ دستیابی کے لیے ابھی کئی ماہ درکار ہوں گے۔

یہ سائنسدان دان پہلے ہی سارز کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈی پر کام کررہے تھے اور جب نئے کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہی اینٹی باڈیز اس وائرس کے خلاف ردعمل ظاہر کرکے انفیکشن کو روکتی ہیں۔

اس دریافت پر ابھی نظرثانی ہونا باقی ہے اور اینٹی باڈی پر تجربات بھی ہوں گے، مگر محققین کو توقع ہے کہ وہ کسی فارماسیوٹیکل کمپنی کو اس کی بطور دوا بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے تیار کرسکیں گے، کیونکہ یہ وائرس کو شناخت کرنے کے ساتھ اسے پھیلنے سے روکتا ہے۔

بیلجیئم

اس یورپی ملک کی غینٹ یونیورسٹی اور فلیمش انسٹیٹوٹ فار بائیو ٹیکنالوجی نے بھی کووڈ 19 کے ممکنہ علاج میں پیشرفت کی ہے۔

یہ سائنسدان ایک ایسی تیکنیک پر کام کررہے ہیں جس میں ایک اینٹی باڈی کو استعمال کرکے وائرس کی سطح پر موجود ایک پروٹین کو ناکارہ کیا جاسکے گا اور اس کے لیے انسانی خلیات کو جکڑنا ناممکن ہوجائے گا۔

امریکا کی آسٹن یونیورسٹی اور جرمن پرائیمیٹ سینٹر کے اشتراک سے بیلجیئم کے سائنسدانوں نے لیبارٹری میں اس تیکنیک کی مدد سے کورونا وائرس کو ناکارہ بنانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔

یہ دریافت ویکسین نہیں کیونکہ روایتی ویکسین میں وبائی ایجنٹ کو شامل کرکے جسم میں اس کے خلاف مدافعت کو بڑھایا جاتا ہے۔

یہ نیا طریقہ علاج کسی روایتی ویکسین سے زیادہ تیز اثر ہوگا جبکہ معمر افراد جن میں اکثر ویکسینز کا اثر زیادہ موثر نہیں، ان کے لیے یہ زیادہ بہتر طریقہ علاج ہوگا۔

محققین کا کہنا تھا کہ لیبارٹری میں تیار کووڈ 19 کو ناکارہ بنانے کا طریقہ دریافت کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں زندہ وائرس پر اس کو آزمایا جائے گا۔

بیلجیئم کی اس انسٹیٹوٹ کو بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاﺅنڈیشن نے کووڈ 19 کی روک تھام کو یقینی بنانے کی تحقیق کے لیے منتخب کیا تھا اور محققین کا کہنا ہے کہ عام افراد کے لیے تھراپی کو فراہم کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا، کیونکہ ابھی کافی ٹیسٹنگ ہونا باقی ہے۔

امریکا

امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں کو توقع ہے کہ کووڈ 19 کے شکار ہونے والے افراد کا خون اس وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے اور علاج کے طور پر مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک نئی تحقیق میں محققین نے وضاحت کی کہ وائرل اینٹی باڈیز کو کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے تیار کرکے دیگر افراد میں انجیکٹ کرکے انہیں مختصر المدت تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

یہ درحقیقت 19 ویں صدی کا طبی طریقہ کار ہے جسے پاسیو اینٹی باڈی تھراپی کہا جاتا ہے اور اسے 20 ویں صدی میں خسرہ، پولیو، انفلوائنزا اور mumps کی روک تھام میں موثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔

امریکی یونیورسٹی کے ماہرین نے زور دیا کہ اس طریقہ کار کو اپنانے کے لیے کوئی تحقیق یا پیشرفت کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے چند ہفتوں میں اپنایا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں روایتی طریقہ کار انحصار کرنا ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق اس مقصد کے لیے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو صحت یابی کے بعد خون کا عطیہ دینا ہوگا، اگرچہ یہ بحالی صحت کا مرحلہ ہوتا ہے مگر اس دوران بلڈ سیرم (خون کا پلازما) میں بڑی مقدار میں ایسی اینٹی باڈیز ہوسکتی ہیں جو اس نئے کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہیں۔

ایک بار جب جسم وائرس کے خلاف ردعمل کے قابل ہوجائے گا تو ایسی اینٹی باڈیز کئی ماہ تک خون میں گردش کرتی رہیں گی اور ہوسکتا ہے کہ یہ دورانیہ انفیکشن کے بعد کئی برسوں کا ہو۔

محققین کے خیال میں یہ طریقہ کار صرف صحت یاب ہونے والے افراد کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ ان اینٹی باڈیز کو ایکسرٹ اور پراسیس کرنے کے بعد دیگر افراد کے جسموں میں انجیکٹ کرکے انہیں مختصر المدت تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے، جیسے کسی سنگین بیماری کے شکار افراد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، متاثرہ فرد کے صحت مند گھروالوں کے لیے یا طبی عملے کی قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اب تک 77 ہزار سے زائد کووڈ 19 کو شکست دے کر صحت یاب ہوچکے ہیں اور محققین کے مطابق ان کا خون اہم اینٹی باڈیز کے ذریعے دیگر کو مدد فراہم کرسکتا ہے، کیونکہ وائرس کے علاج اور ویکسینز کی تیاری میں ابھی کافی عرصہ درکار ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ اس حوالے سے ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ طریقہ کار لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے کس حد تک موثر ثابت ہوسکتا ہے، مگر غیرمصدقہ رپورٹس کے مطابق چین میں اس طریقے پر پہلے ہی عمل کیا جارہا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے دی جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن میں شائع ہوئے۔