بھارت نے یورپی ممالک سمیت 30 ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی

اپ ڈیٹ 17 مارچ 2020

ای میل

بھارت میں کورونا کا پہلا کیس 30 جنوری 2020 کو سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: الجزیرہ
بھارت میں کورونا کا پہلا کیس 30 جنوری 2020 کو سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: الجزیرہ

بھارت نے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے یورپی ممالک، برطانیہ، ترکی، ملائیشیا، افغانستان و فلپائن سے آنے والے شہریوں پر ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی۔

بھارت میں 17 مارچ کی صبح تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 199 تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی تین تک جا پہنچی ہے۔

بھارت میں رواں ہفتے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کئی شہروں اور کچھ ریاستوں میں بھی پہلے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

کورونا وائرس کے پیش نظر بھارت میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کو پہلے ہی مؤخر کردیا گیا تھا جب کہ آئیفا فلم ایوارڈ سمیت دیگر تقریبات بھی مؤخر یا منسوخ کردی گئی تھیں۔

رواں ہفتے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد اب بھارتی حکومت نے یورپ، برطانیہ، ترکی، ملائیشیا، فلپائن اور افغانستان سے آنے والے افراد کی ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

دی اکانامکس ٹائمز کے مطابق بھارت نے نہ صرف یورپ، برطانیہ و ترکی جیسے ممالک کے شہریوں پر ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی بلکہ بیرون ممالک میں رہنے اور وہاں کی شہریت رکھنے والے بھارتی افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کردی۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین، یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن ارکان ممالک کے افراد سمیت برطانیہ و ترکی کے شہریوں سمیت بیرون ممالک شہریت رکھنے والے بھارتی افراد کا بھی 18 مارچ سے بھارت میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت نے مذکورہ پابندیاں عارضی طور پر 31 مارچ تک عائد کی ہیں تاہم اس دوران بیرون ممالک رہنے والے ایسے بھارتی جن کے پاس بیرون ممالک کی شہریت نہیں ہوگی انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

پابندیوں کا اطلاق یورپی یونین کے 27 ممالک سمیت یورپین فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ارکان ممالک پر بھی ہوگا۔

علاوہ ازیں بھارت نے فلپائن، ملائیشیا اور افغانستان سے بھی آنے والے افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارتی حکومت نے نہ صرف افغانستان، ملائیشیا اور فلپائن سے آنے والے تمام شہریوں پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی بلکہ حکومت نے مذکورہ تینوں ممالک سے آنے والے طیاروں کی لینڈنگ پر بھی پابندی عائد کردی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ تینوں ممالک سے 31 مارچ تک کسی بھی طیارے کو لینڈنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 30 جنوری 2020 میں ریاست کیرالہ میں رپورٹ ہوا تھا اور 17 مارچ کی صبح تک انڈیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 199 تک جا پہنچی تھی۔

بھارت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے کیسز ریاست مہاراشٹر میں ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 40 تک ہے جن میں سے 3 غیر ملکی شہری ہیں۔

مجموعی طور پر اس وقت تک بھارت کی 15 ریاستوں اور وفاقی علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 17 مارچ کی صبح تک کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3 تک جا پہنچی تھی۔

جنوبی ایشیائی خطے میں کورونا وائرس کے حوالے سے بھارت پہلے نمبر پر ہے جب کہ پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔

بھارت کی طرح پاکستان میں بھی رواں ہفتے کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور محض 2 دن میں 150 نئے کیسز سامنے آ چکے ہیں تاہم پاکستان میں تاحال کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

17 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 82 ہزار 407 تک جا پہنچی تھی جن میں سے 7 ہزار 157 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔

دنیا بھر میں تصدیق شدہ کورونا وائرس کے مذکورہ مریضوں میں سے لگ بھگ 80 ہزار مریض صحت یاب ہوچکے تھے۔