پنجاب: مذہبی اقلیتوں نے رضاکارانہ طور پر عبادت گاہیں بند کردیں

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

گزشتہ روز سے صوبے پنجاب میں 14 دن کے لیے جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
گزشتہ روز سے صوبے پنجاب میں 14 دن کے لیے جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پنجاب میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے تمام بشپس، پادری، پنڈت اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے اپنی عبادت گاہوں کو رضاکارانہ طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا۔

اس ضمن میں وزیر برائے اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین نے ہدایات جاری کی تھیں کہ صوبے میں اقلیتوں کے تمام گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں کو بند کردیا جائے گا۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب میں 14 روز کیلئے جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جس پر تمام بشپس، پادری، پنڈت اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے رضاکارانہ طور پر عبادت گاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

علاوہ ازیں وزیر برائے اقلیتی امور نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ حکومت پنجاب اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہے اور قوم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہین۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پر اعتماد کرنا تمام پاکستانیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اگرچہ مذہبی سرگرمیوں میں شرکت نہ کرنا تکلیف دہ ہوسکتا ہے لیکن بحیثیت قوم یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا۔

انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ پاکستان، چین کی طرح جلد ہی بحران پر قابو پا لے گا لیکن سب کو صبر و تحمل سے رہنا ہوگا اور اس وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت پر اعتماد کرنا ہوگا۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس: بلوچستان میں پہلی ہلاکت، ملک میں 825 افراد متاثر

واضح رہے کہ گزشتہ روز صوبے پنجاب میں 14 دن کے لیے جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ عوام کو کورونا وائرس سے بچانے اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر 21 مارچ کو پنجاب میں 2 ہفتے کے لیے شاپنگ مالز، مارکیٹ اور بازار بند کیے گئے تھے، جس کی مدت کل صبح 9 بجے مکمل ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ پنجاب میں 24 مارچ کی صبح 9 بجے سے 6 اپریل کی صبح 9 بجے تک 14 روز کے لیے صوبے کے بازار، شاپنگ مالز، نجی و سرکاری ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، پارکس، سیاحتی مقامات بند رہیں گے۔

علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے عوام کے وسیع مفاد میں فیصلہ کیا کہ ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی جائے گی، تاہم فیملی اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: 'کوئی حکومت ڈنڈے کے زور پر اس طرح کے چیلنج پر قابو نہیں پاسکتی'

واضح رہے کہ ملک میں بڑھتے کورونا وائرس سے اب تک 6 افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ وائرس سے 887 لوگ متاثر بھی ہیں۔

اس عالمی وبا سے پاکستان میں سب سے زیادہ سندھ متاثر ہے جہاں ایسے افراد کی تعداد 394 ہے جبکہ پنجاب میں 249 افراد اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔