میانمار و تیمور میں کورونا کیس رپورٹ، لاؤس و منگولیا اب بھی محفوظ

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

میانمار نے 23 مارچ کی شب پہلے کیس کی تصدیق کی—فوٹو: اے ایف پی
میانمار نے 23 مارچ کی شب پہلے کیس کی تصدیق کی—فوٹو: اے ایف پی

چین، تھائی لینڈ، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے کورونا وائرس سے متاثر ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ملک میانمار نے پہلے کورونا وائرس کے کیس کی تصدیق کردی۔

میانمار اور چین کے درمیان 2100 کلو میٹر طویل زمینی سرحد ہے اور کورونا وائرس کا مرض میانمار کے پڑوسی ملک چین سے ہی شروع ہوا تھا مگر میانمار کا دعویٰ تھا کہ ان کے ہاں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

میانمار میں گزشتہ 4 ماہ میں کورونا وائرس کا ایک کیس بھی رپورٹ نہ ہونے پر عالمی برادری کو تشویش لاحق تھی کہ حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے، کیوں کہ میانمار کے دیگر پڑوسی تھائی لینڈ، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی کورونا وائرس کے کیسز فروری میں ہی آنا شروع ہوگئے تھے۔

میانمار کی حکومت نے مارچ کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ میانمار عوام کی خوراک اور طرز زندگی کی وجہ سے وہاں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تاہم اب میانمار نے پہلے کیس کی تصدیق کردی۔

نشریاتی ادارے سی این اے کے مطابق میانمار کی حکومت نے 23 مارچ کی شب کو ملک میں پہلے کورونا وائرس کی تصدیق کی تو ملک بھر میں خوف پھیل گیا اور فوری طور پر دکانیں، کاروبارi مراکز اور شاپنگ مالز بند ہونا شروع ہوگئے۔

حکومت نے بتایا کہ 23 مارچ تک 214 مشکوک افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے صرف ایک شخص میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے بڑھتے کیسز، عالمی ادارہ صحت نے ایشیائی ممالک کو خبردار کردیا

پڑوسی ممالک میں کورونا کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے وہاں مقیم میانمار کے باشندے ملک واپس آ رہے ہیں تاہم اس کے باوجود حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہاں کوئی کورونا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

حکومت یہ دعویٰ کرتی آ رہی تھی کہ ملک کے منفرد طرز زندگی، عوام کی جانب سے بہتر اور منفرد خوراک کھانے کے انداز اور مذہبی عقائد کی وجہ سے ملک میں کورونا کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

میانمار حکومت کی جانب سے ایسے وقت میں کورونا کے پہلے کیس کی تصدیق کی گئی جب کہ ایک دن قبل ہی انڈونیشیا کے پڑوسی ملک مشرقی تیمور نے 22 مارچ کو اپنے ہاں پہلے کیس کی تصدیق کی تھی۔

مشرقی تیمور کے پڑوسی ملک انڈونیشیا میں بھی اگرچہ 4 ہفتے قبل تک کورونا کیس رپورٹ ہوچکے تھے تاہم مشرقی تیمور کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہاں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا لیکن 22 مارچ کو وہاں کی حکومت نے بھی پہلے کیس کی تصدیق کی۔

جہاں خطے میں میانمار اور مشرقی تیمور جیسے ممالک نے اپنے ہاں پہلے کیسز کی تصدیق کردی ہے، وہیں اب تک منگولیا اور لاؤس جیسے ممالک میں تاحال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہو سکا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ منگولیا کی زمینی سرحدیں بھی کورونا سے متاثرہ ممالک چین، روس اور قازقستان سے ملتی ہیں جب کہ منگولین صدر بھی فروری میں کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر قرنطیہ میں منتقل ہوگئے تھے مگر اس کے باوجود تاحال وہاں کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

مزیدپڑھیں: ایشیائی ممالک بیرونی کیسز کی وجہ سے ایک بار پھر کورونا کا شکار

منگولیا کی طرح میانمار، چین، تھائی لینڈ, ویتنام و کمبوڈیا جیسے کورونا سے متاثر ممالک سے زمینی سرحدیں رکھنے والے ملک لاؤس میں بھی 24 مارچ کی صبح تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہو سکا تھا۔

عالمی برادری کو ایسے ممالک پر سخت تشویش لاحق ہے جن کی زمینی سرحدیں متعدد ممالک سے ملنے کے باوجود وہاں پر کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوسکا جب کہ ان کے پڑوسی ممالک میں کئی ہفتے قبل ہی کیسز سامنے آ چکے تھے۔

مذکورہ جنوب مشرقی ایشیائی کی طرح کچھ افریقی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی تاخیر سے کورونا کیس رپورٹ ہونے پر کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ عین ممکن ہے کہ وہاں کی حکومتیں حقائق کو چھپا رہی ہوں۔

مشرق وسطیٰ کے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں تھا جہاں پر بھی [کورونا کا پہلا کیس 23 مارچ کو سامنے آیا۔][6 جب کہ شام کے پڑوسی ممالک میں بھی کورونا وائرس کے کیسز 4 ہفتے قبل ہی رپورٹ ہو چکے تھے۔

خانہ جنگی کے شکار افریقی ملک صومالیہ میں بھی پہلا کیس 16 مارچ کو رپورٹ ہوا تھا اور اس سے قبل ماہرین نے صومالیہ میں وائرس کے کیس رپورٹ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ 24 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 82 ہزار 622 تک جا پہنچی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہزار 587 تک جا پہنچی تھی۔

دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوچکی ہیں، جہاں مرنے والے افراد کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جب کہ اس وقت اٹلی ہی کورونا سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک ہے۔