کورونا کے نوجوان مریض کو وینٹی لیٹر دینے والا کورونا سے متاثر پادری چل بسا

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

پادری گوسپے براردیلے کے لیے ان کے پیروکاروں نے وینٹی لیٹر کا بندوبست کیا تھا—فوٹو: ٹوئٹر
پادری گوسپے براردیلے کے لیے ان کے پیروکاروں نے وینٹی لیٹر کا بندوبست کیا تھا—فوٹو: ٹوئٹر

کورونا وائرس سے اس وقت سب سے زیادہ متاثر ملک اٹلی کا عمر رسیدہ وہ پادری کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوگیا جنہوں نے زندگی کے آخری لمحات میں اپنا وینٹی لیٹر ایک نوجوان مریض کی زندگی بچانے کے لیے دے دیا تھا۔

اٹلی کے صوبے بیرگامو کے شہر لوویرے کے ہسپتال میں عمر رسیدہ پادری نے اپنا وینٹی لیٹر اس وقت کورونا وائرس میں مبتلا ایک نوجوان کو دیا تھا جب نوجوان کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا اور ہسپتال میں اضافی وینٹی لیٹر موجود نہیں تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ہلاک ہونے والا 72 سالہ پادری گوسپے براردیلے صوبے بیرگامو کے چھوٹے سے قصبے کسنجو کے ایک چرچ میں پادری کی خدمات سر انجام دیتا تھا اور انہیں بھی کورونا ہوگیا تھا۔

کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد پادری کو صوبے کے بڑے شہر لوویرے کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں کورونا کے درجنوں مریض زیر علاج تھے اور وہاں پر وینٹی لیٹرز کی بھی قلت تھی۔

کورونا میں مبتلا ہونے والے 72 سالہ پادری گوسپے براردیلے کے لیے ان کے پیروکاروں نے وینٹی لیٹر کا خصوصی بندوبست کیا تھا اور انہیں علاج کے دوران وینٹی لیٹر فراہم کیا گیا مگر ہسپتال میں انہوں نے اپنا وینٹی لیٹر نوجوان مریض کو دیا۔

رپورٹ کے مطابق عمر رسیدہ پادری نے اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر سانس کی دشواری کا سامنا کرنے والے کورونا کے نوجوان مریض کو اپنا وینٹی لیٹر دیا اور بعد ازاں کچھ گھنٹے بعد پادری چل بسے۔

عمر رسیدہ پادری کے ہلاک ہونے کے بعد ان کی لاش کو اپنے آبائی گاؤں لایا گیا مگر ان کی آخری رسومات میں کسی کو بھی شرکت کی اجازت نہیں تھی اور لوگوں نے پادری کا آخری دیدار اپنے گھروں کی کھڑکیوں اور بالکونیوں سے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے اٹلی میں ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ

بی بی سی کے رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ اٹلی میں کورونا کی وجہ سے کتنے پادری ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم حکام کے مطابق 50 کے قریب پادری کورونا وائرس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

کورونا وائرس کی وجہ سے اٹلی میں چرچز سمیت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ پاپائیت کے مرکز ویٹی کن سٹی کو بھی عام افراد کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

اٹلی اس وقت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے، جہاں 25 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 65 ہزار جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہزار 820 تک جا پہنچی تھی۔

اٹلی کے علاوہ امریکا اور اسپین میں بھی کورونا وائرس کے کیسز تیزی سے سامنے آ رہے ہیں، جب کہ اسپین، فرانس، جرمنی، ایران، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک میں بھی کورونا کے کیسز تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔

25 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 23 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 18 ہزار 919 تک جا پہنچی تھی۔