کورونا وائرس: یورپی ملک میں تعینات برطانوی سفارت کار ہلاک

اپ ڈیٹ مارچ 26 2020

ای میل

اسٹیون ڈک کی عمر 37 سال تھی—فائل فوٹو: برطانوی وزارت خارجہ/ پی اے
اسٹیون ڈک کی عمر 37 سال تھی—فائل فوٹو: برطانوی وزارت خارجہ/ پی اے

یورپی ملک ہنگری میں تعینات 37 سالہ برطانوی سفارت کار اسٹیون ڈک مبینہ طور پر کورونا وائرس سے ہلاک ہوگئے۔

نوجوان سفارت کار گزشتہ کچھ دن سے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر گھر تک محدود تھے، تاہم وہ علاج کی غرض کے لیے ہسپتال بھی گئے تھے اور زندگی کے آخری ایام میں ان میں کورونا وائرس کی کچھ علامات بھی پائی گئیں۔

برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی رپورٹ میں برطانیہ وزارت خارجہ کے حوالے سے تصدیق کی کہ 37 سالہ اسٹیون ڈک کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد ہلاک ہوگئے تاہم یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سفارت کار کی موت عالمی وبا سے ہی ہوئی۔

برطانوی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے سفارت کار کو کوئی اور بیماری بھی نہیں تھی تاہم ان میں گزشتہ کچھ دن سے کورونا وائرس کی علامات دیکھی گئیں اور انہوں نے خود کو گھر تک محدود کر رکھا تھا۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا تھا یا نہیں، تاہم بتایا گیا کہ ان میں عالمی وبا کی کچھ علامات پائی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس، برطانیہ میں معمولات زندگی کیسے ہیں؟

دی گارجین کے مطابق ہلاک ہونے والے 37 سالہ سفارت کار حال ہی میں میکسیکو کے دورے سے واپس آئے تھے جس کے بعد ان کی طبعیت کچھ خراب تھی اور انہوں نے خود کو گھر تک محدود کرنے سمیت علاج کی غرض سے ہسپتال کا دورہ بھی کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے سفارت کار نے اپنے دوستوں کو واٹس ایپ پر کورونا وائرس کی علامات سے آگاہ کیا تھا تاہم اس بات کی مکمل تصدیق نہیں ہوئی کہ ان کی موت کورونا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئی۔

اسٹیون ڈک نے 2008 میں محض 25 سال کی عمر میں برطانوی وزارت خارجہ میں نوکری کا آغاز کیا تھا اور انہوں نے سعودی عرب سمیت افغانستان میں بھی سفارت کاری کی خدمات سر انجام دی تھیں۔

برطانیہ کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھ رہےہیں—فوٹو: اے ایف پی
برطانیہ کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھ رہےہیں—فوٹو: اے ایف پی

اسٹیون ڈک ہنگری میں ڈپٹی سفیر کی خدمات سر انجام دے رہے تھے اور ان کی موت پر برطانوی وزارت خارجہ سمیت بڈاپسٹ میں برطانوی سفارت خانے کے عملے نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ 26 مارچ کی صبح تک ہنگری میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 260 سے زائد ہوچکی تھی جب کہ برطانیہ میں مریضوں کی تعداد ساڑھے 9 ہزار سے بڑھ چکی تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: برطانیہ کا کم آمدنی والے ملازمین کو تنخواہ دینے کا اعلان

برطانیہ میں خطے کے دیگر ممالک اٹلی، اسپین، فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے بعد سب سے زیادہ کیسز ہیں اور برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد بھی 26 مارچ کی صبح تک بڑھ کر 456 تک جا پہنچی تھی۔

26 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 21 ہزار 300 سے زائد ہوچکی تھی۔

کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض اٹلی اور امریکا میں سامنے آ رہے ہیں جب کہ اسپین مریضوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے۔

چین میں رواں ماہ مارچ کے آغاز کے بعد نئے مریضوں کے سامنے آنے کی رفتار انتہائی سست ہوچکی ہے اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی انتہائی کم ہوچکی ہے۔